القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 117

112 وَ أَنَّى الآمُنُ مِنْ تِلْكَ الْبَلَايَا سِوَى اللَّهِ الَّذِي مَلِكُ الْآمَان اور ان بلاؤں سے نجات پانا لوگوں کے لئے غیر ممکن ہے بجز اس کے کہ اس خدا کا رحم ہو جو امان بخشنے کا بادشاہ ہے۔فَعُشَّاق الْغَوَانِيُّ وَالْمَثَانِي أَضَاعُوا الدِّينَ مِنْ تِلْكَ الْآمَانِي سو جو لوگ عورتوں اور سروردوں کے عاشق ہیں انہوں نے انہی آرزؤں کے پیچھے دین ضائع کیا ہے۔يَصُدُّوْنَ الْوَرَى مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَيَغْتَاظُونَ مِنْ تَخْلِيصِ عَانِي لوگوں کو وہ ہر ایک نیکی کے کام سے روکتے ہیں اور اس بات سے غصہ کرتے ہیں کہ کسی قیدی کو رہا کر دیا جائے۔عَمَايَاتُ الرِّجَالِ تَزيدُ مِنْهُمْ وَفِتَنُ الدَّهْر تَنْمُو كُلَّ أن لوگوں میں ان کے سبب سے گمراہی پھیلتی جاتی ہے اور فتنے دم بدم بڑھتے جاتے ہیں۔وَمَا مِنْ مَلْجَا مِنْ دُونِ رَبِّ كَرِيم قَادِرٍ كَهْفِ الزَّمَانِ اور ان آفتوں سے بچنے کے لئے بجز اس خدا کے کوئی گریز گاہ نہیں جو کریم اور قادر اور زمانہ کی پناہ ہے۔فَنَشْكُرُ هَارِبِينَ مِنَ الْبَلَايَا إِلَى اللَّهِ الْحَفِيْظِ الْمُسْتَعَان سو ہم ان بلاؤں سے بھاگ کر اسی خدا کی طرف شکایت لے جاتے ہیں جو اپنے بندوں کا نگہبان اور بے قراروں کی مدد کرنے والا ہے۔جَرَتْ حُزْنًا عُيُونٌ مِّنْ عُيُونِى بِمَاشَاهَدْتُ فِتَنا كَالدُّخَانِ میری آنکھوں سے مارے غم کے چشمے بہ نکلے جبکہ میں نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا جو دھوئیں کی مانند اٹھ رہے ہیں۔فَهَلْ وَجَدَتْ تَكَالَی مِثْلَ وَجُدِى أَذًى أَمْ هَلْ لَّهَا شَأْنُ كَشَأْن پس کیا وہ عورتیں جن کے لڑکے مر جائیں ایسا غم کرتی ہیں جو میں کرتا ہوں؟ کیا دکھ کے وقت ان کا ایسا حال ہوتا ہے جو میرا حال ہے؟ وَكَمْ مِّنْ ظَالِمٍ يَبْغِى فَسَادًا وَقِسِيَسِينَ أَصْلُ الْإِفْتِنَان بہتیرے ظالم یہی چاہتے ہیں جو دنیا میں فساد اور گناہ پھیلے اور توحید میں فتنہ اندازی کی جڑ پادری لوگ ہیں۔تَفَاحُشُهُمْ تَجَاوَزَ كُلَّ حَدٍ كَاَنَّ غِذَاءَ هُمْ فُحْشُ اللَّسَانِ پادریوں کی بدگوئی حد سے بڑھ گئی ہے گو یا بدزبانی ان کی غذا ہے۔