القصائد الاحمدیہ — Page 114
۱۱۴ أَلَا إِنَّمَا الْأَيَّامُ رَجَعَتْ إِلَى الْهُدَى هَنِيئًا لَّكُمْ بَعْنِي فَبَشُوا وَ ابْشِرُوا سن لو! زمانہ ہدایت کی طرف لوٹ آیا۔مبارک ہو تمہارے لئے میری بعثت۔تم خوش ہو جاؤ اور خوشی مناؤ۔وَ قَدِ اصْطَفَانِى خَالِقِي وَأَعَزَّنِي وَأَيَّدَنِي وَاخْتَارَنِي فَتَدَبَّرُوا اور میرے خالق نے مجھے برگزیدہ کیا ہے اور مجھے عزت دی اور میری تائید کی اور مجھے چن لیا سوتم غور کرو۔وَ وَاللَّهِ مَا أَمْرِى عَلَيَّ بِغُمَّةٍ وَإِنِّي لَاعْرِفْ نُورَهُ لَا أُنْكِرُ اور اللہ کی قسم! میرا معاملہ مجھ پر مشتبہ نہیں اور یقینا میں اس کے نور کو خوب پہچانتا ہوں میں نا آشنا ہیں۔إِذَا قَلَّ دِينُ الْمَرْءِ قَلَّ اتِّقَاءُهُ وَيَسْعَى إِلى طُرُقِ الشَّقَا وَيُزَوِّرُ جب انسان کی دینداری کم ہو جائے تو اس کا تقویٰ بھی کم ہوجاتا ہے اور وہ بدبختی کی راہوں کی طرف دوڑنے لگتا اور فریب سے کام لیتا ہے۔وَ مَنْ ظَنَّ ظَنَّ السَّوْءِ بُخْلًا فَقَدْ هَوَى وَكُلُّ حَسُوَدِ عِندَ ظَنَ يُتَبَّرُ اور جس نے بخل کی وجہ سے بدظنی کی تو وہ نیچے گر گیا اور بہت حسد کرنے والا ہر شخص بدظنی کرنے پر ہلاک کیا جاتا ہے۔وَلَا يَعْلَمَنْ أَنَّ الْمَنَايَا قَرِيبَةٌ إِذَا مَا تَجِيءُ الْوَقْتُ فَالْمَوْتُ يَحْضُرُ اور وہ نہیں جانتا کہ موتیں تو قریب ہیں اور جب وقت آ جاتا ہے تو موت حاضر ہو جاتی ہے۔وَهَلْ نَافِعٌ وِرُدُ التَّنَدُّمِ بَعْدَمَا دَنَا وَقْتُ قَارِعَةٍ وَّ جَاءَ الْمُقَدَّرُ اور کیا ندامت کا وظیفہ نفع دے سکتا ہے بعد اس کے کہ موت کا وقت قریب ہوا اور امر مقد رآ جائے۔وَلَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا وَقَتَ مَوْتِكُمْ فَلَا تُلْهِكُمْ غُولٌ خَبِيتٌ مُخَسِرُ اے لوگو! اپنی موت کے وقت کو یاد کرو پس تمہیں خبیث نقصان رساں دیو غافل نہ کر دے۔وَ قَدْ ذَابَتِ الصَّفْوَاءُ مِنْ بَيْتِ عُمْرِكُمْ وَمَا بَقِيَ إِلَّا جَمْرَةٌ أَوْ أَصْغَرُ تمہاری عمر کے گھر کا بنیادی پتھر تو پکھل چکا ہے اور نہیں باقی رہ گئی مگر صرف ایک کنکری یا اس سے بھی کم تر۔وَ مِسَحُ الْحَمَامِ سَيَحْمِلَنُكَ عَلَى الْمَطَا وَاَنْتَ بِأَمْوَالٍ وَخَيْلٍ تَفْخَرُ اور موت کا گھوڑ اجلد تجھے اپنی پیٹھ پرسوار کر لے گا اور تو اپنے مالوں اور گھوڑوں پر فخر کر رہا ہے۔