القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 113

۱۱۳ وَ جَهْلُكَ أَعْجَبَنِي وَ طُولُ امْتِدَادِهِ وَ إِنَّ الْفَتَى بَعْدَ الْجَهَالَةِ يَشْعُرُ اور تیری نادانی نے مجھے حیرانی میں ڈالا اور اس کے لمبے عرصہ تک بڑھ جانے نے بھی۔حالانکہ یقینا جوانمرد جہالت کے بعد شعور حاصل کر لیتا ہے۔اَتَقْبِرُ حَيَّا مِثْلَ مَيْتٍ خِيَانَةً وَيَعْلَمُ رَبِّي كُلَّمَا أَنْتَ تَسْتُرُ کیا تو زندہ (سچائی ) کو مردے کی طرح خیانت سے دفن کرتا ہے اور میرا رب خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جوتو چھپاتا ہے۔اِلَامَ فَسَادُ الْقَلْبِ يَاتَارِكَ الْهُدَى الَامَ إِلى سُبُلِ الشَّقَاوَةِ تَسْفِرُ اے ہدایت کے تارک! کب تک دل کی خرابی ( باقی رہے گی اور تو کب تک بدبختی کی راہوں کی طرف چلتا رہے گا؟ وَ وَاللَّهِ إِنِّي مُؤْمِنٌ غَيْرُ كَافِرٍ وَأَيْنَ التَّقَى لَوْ كَانَ مِثْلِى يُفَجَّرُ اور خدا کی قسم ! یقیناً میں مومن ہوں کا فر نہیں۔اور تقویٰ کہاں رہا اگر میرے جیسے آدمی کو فاجر ٹھہرایا گیا۔فَيَا سَالِكِي سُبُلَ الشَّيَاطِينِ اتَّقُوا قَدِيرًا عَلِيمًا وَاحْذَرُوا وَ تَذَكَّرُوا اے شیطانوں کی راہ پر چلنے والو! ڈروقد بر علیم خدا سے اور بچو اور نصیحت حاصل کرو۔وَ طُوبَى لِإِنْسَان تَيَقَّظَ وَانْتَهى وَخَافَ يَدَ الْمَوْلَى وَ سَيْفًا يُتَعْجِرُ اور خوشی ہے اس انسان کے لئے جو بیدار ہو اور رک گیا اور مولی کے ہاتھ سے ڈرا اور اس تلوار سے بھی جو خون بہاتی ہے۔وَ وَاللَّهِ إِنِّي جِئْتُ مِنْهُ مُجَدِّدًا بِوَقْتٍ أَضَلَّ النَّاسَ غُولٌ مُّسَخِرُ اور خدا کی قسم ! یقینا میں اس کی طرف سے مجہ دہو کر آیا ہوں ایسے وقت میں کہ قابو کر لینے والے دیو نے لوگوں کو گمراہ کر دیا تھا۔وَ عَلَّمَنِي رَبِّى عُلُوْمَ كِتَابِهِ وَأُعْطِيتُ مِمَّا كَانَ يُخْفَى وَيُسْتَرُ مجھے میرے رب نے اپنی کتاب کے علوم سکھائے اور مجھے وہ علم دیا گیا جو خفی اور مستور تھا۔وَ اَسْرَارُ قُرآنِ مَّجِيدٍ تَبَيَّنَتْ عَلَيَّ وَيَسَّرَ لِي عَلِيمٌ مُّيَسِرُ اور قرآن مجید کے بھید مجھ پر ظاہر ہو گئے۔آسانی پیدا کرنے والے خدائے علیم نے میرے لئے آسانی پیدا کر دی۔كَانَ الْعَذَارَى بِالْوُجُوهِ الْمُنِيرَةِ خَرَجْنَ مِنَ الْكَهْفِ الَّذِي هُوَ مُقْعَرُ گویا کہ کنواری عورتیں چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ نکل پڑیں اس غار سے جو گہری تھی۔