القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 112

۱۱۲ ایک وَمَا أَنَا مِمَّنْ يَمْنَعُ السَّيْفُ قَصْدَهُ فَكَيْفَ يُخَوِّفُنِيْ بِشَتْمٍ مُّكَفِّرُ اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں کہ تلوار اس کے ارادے کو روک سکے۔پس تکفیر کرنے والا کس طرح مجھے گالیوں سے خوف دلا سکتا ہے۔يَسُبُّ وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَتْرُكُ التَّقَى عَلى مِثْلِهِ الْوُفَّاظِ يَبْكِي الْمِنْبَرُ وہ گالی دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ تقویٰ چھوڑ رہا ہے۔اس جیسے واعظوں پر ہی منبر روتا ہے۔وَمَا إِنْ رَبَّيْنَا وَعْظَهُ غَيْرَ فِتْنَةٍ وَمَا زَالَتِ الشَّحْنَاءُ تَنْمُو وَ تَكْفُرُ اور ہم نے اس کے وعظ کو فتنہ کے سوا کچھ نہ پایا و دشمنی بڑھتی گئی اور بڑھ رہی ہے۔وَ كَفَّرَنِي حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَصْلَى بِحُبِّ الْكُفْرِ نَارً ا يُسَعَرُ اور اس نے میری تکفیر کی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کفر کی محبت کی وجہ سے ضرور آگ میں داخل ہوگا۔عَجِبْتُ لَهُ لَا يَتْرُكَنَّ شُرُوْرَهُ وَذَكَرَهُ مِنْ كُلِّ نُصْحٍ مُذَكَّرُ میں حیران ہوں کہ وہ اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑ رہا حالانکہ اسے ہر قسم کی نصیحت کی ہے نصیحت کرنے والے نے۔وَ مِنْ عَجَبِ الْأَيَّامِ أَنِّى كَافِرٌ بِأَعْيُنِ رَجُلٍ حَاسِدٍ بَلْ أَكْفَرُ اور یہ زمانہ کے حیران کن امور میں سے ہے کہ میں کافرہوں ایک حاسد آدمی کی نگاہ میں بلکہ اکٹر ہوں۔وَ كَيْفَ أَخَافُ الْحَاسِدِينَ وَ سَبَّهُمْ وَيَرْحَمُنِي رَبِّي وَ يُؤْوِى وَيَنْصُرُ اور میں حاسدوں اور ان کے گالی دینے سے کس طرح ڈرسکتا ہوں جب کہ میرا رب مجھ پر رحم کر رہا ہے اور مجھے ) پناہ دے رہا ہے اور مدد دے رہا ہے۔أُحِبُّ مَصَائِبَ مائِبَ سُبُلِ رَبِّي وَإِنَّهَا لَا طُيِّبُ لِي مِنْ كُلِّ عَيْشِ وَأَطْهَرُ اپنے رب کی راہوں کے مصائب سے میں محبت رکھتا ہوں اور وہ میرے لئے ہر زندگی سے زیادہ خوشگوار اور پاکیزہ ہیں۔آيَا أَيُّهَا الْأَلْوَى كَسَبُعِ تَغَيُّظًا فَسَتَعْلَمَنْ فِي أَيِّ شَكْلٍ تُحْشَرُ اے درندے کی طرح غصہ کی حالت میں سخت دشمنی کرنے والے! تو عنقریب جان لے گا کہ تو کس شکل میں اٹھایا جائے گا۔فَلَا تَقْفُ مَالَا تَعْلَمَنْ اَسْرَارَهُ وَكَمْ مِنْ عُلُومِ الْحَقِّ تُخْفَى وَ تُسْتَرُ پس نہ پیچھے پڑ اس بات کے جس کے بھید تو نہیں جانتا جب کہ کتنے ہی الہی علوم ہیں جو مخفی اور مستور رکھے جاتے ہیں۔