القصائد الاحمدیہ — Page 2
يَا بَدْرَنَا يَا أَيُّةَ لرَّحْمَنِ أَهْدَى الْهُدَاةِ وَأَشْجَعَ الشُّجُعَان اے ہمارے کامل چاند ! سب راہنماؤں کے راہنما اور سب بہادروں سے بہادر۔إِنِّي أَرى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَلِلِ شَانًا يَفُوقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانٍ بے شک میں تیرے درخشاں چہرے میں دیکھ رہا ہوں ایک ایسی شان جو انسانی خصائل پر فوقیت رکھتی ہے۔وَقَدِ اقْتَفَاكَ أُولُو النُّهَى وَبِصِدْقِهِمْ وَدَعُوا تَذَكَّرَ مَعْهَدِ الْأَوْطَانِ بے شک دانشمندوں نے تیری پیروی کی ہے اور اپنے صدق کی وجہ سے انہوں نے وطنوں کی یاد بھلادی ہے۔قَدْ أَثَرُوْكَ وَفَارَ قُوْا أَحْبَابَهُمْ وَتَبَاعَدُوا مِنْ حَلْقَةِ الْإِخْوَانِ بے شک انہوں نے تجھے مقدم کر لیا اور اپنے دوستوں کو چھوڑ دیا اور اپنے بھائیوں کے دائرہ سے دور ہو گئے۔قَدْ وَدَّعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَنُفُوسَهُمْ وَتَبَرَّءُ وُا مِنْ كُلِّ نَشَبٍ فَان انہوں نے اپنی خواہشوں اور نفسوں کو یکسر چھوڑ دیا اور ہر فانی مال و منال سے بیزار ہو گئے۔ظَهَرَتْ عَلَيْهِمْ بَيِّنَاتُ رَسُولِهِمْ فَتَمَزَّقَ الْأَهْوَاءُ كَالأَوْثَانِ ان پر اپنے رسول کے روشن دلائل ظاہر ہوئے تو ان کی نفسانی خواہشیں بنوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔فِي وَقْتِ تَرُوِيقِ اللَّيَالِى نُورُوا وَاللهُ نَجَّاهُم مِّنَ الطُّوفَان وہ راتوں کی تاریکی کے وقت منور ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں طوفان سے نجات دے دی۔قَدْ هَاضَهُمْ ظُلْمُ الْأَنَاسِ وَضَيْمُهُمْ فَتَثَبَّتُوا بِعِنَايَةِ الْمَنَّـانِ بے شک لوگوں کے ظلم و ستم نے انہیں چور چور کر دیا پھر بھی خدائے محسن کی عنائت سے وہ ثابت قدم رہے۔نَهَبَ اللَّامُ نُشُوبَهُمْ وَعِقَارَهُمْ فَتَهَلَّلُوا بِجَوَاهِرِ الْفُرْقَانِ رذیل لوگوں نے ان کے مال اور جائیداد کولوٹ لیا مگر اس کے عوض قرآن کے موتی پا کر ان کے چہرے چمک اٹھے۔