القصائد الاحمدیہ — Page 100
وَقَدْ مَضَغَتْ أَنْيَابُهَا كُلَّ طَالِبٍ وَأَنْتَ أَثَارَتُهُمْ فَسَوْفَ تُكَسَّرُ بے شک اس کی کچلیوں نے ہر طالب کو چبا ڈالا ہے اور تو ان کا بقیہ ہے پس تو بھی جلد تو ڑ دیا جائے گا۔عَلى كُلِّ قَلْبِ قَدْ اَحَاطَ ظَلَامُهَا سِوى قَلْبِ مَسْعُودٍ حَمَاهُ الْمُيَسِرُ ہر دل پر اس کی تاریکی نے احاطہ کر رکھا ہے سوائے خوش نصیب کے دل کے کہ جس کی حفاظت آسانی پیدا کرنے والے خدا نے کی ہو۔إِذَا مَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ كِلَابَهَا فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ وَ الْقَلْبُ يَضْجَرُ جب میں نے مسلمانوں کو اس (دنیا) کے کتے پایا تو آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اس حال میں کہ دل گھبرارہا تھا۔عَلَى فِسْقِهِمْ لَمَّا اطَّلَعْتُ وَ كَسْلِهِمْ بَكَيْتُ وَلَمْ أَصْبِرُ وَ لَا أَتَصَبَّرُ جب میں نے ان کے فسق اور ستی پر اطلاع پائی تو میں رو پڑا اور صبر نہ کر سکا اور نہ صبر کی تاب رکھتا ہوں۔اكَبُوا عَلَى الدُّنْيَا وَمَالُوُا إِلَى الْهَوَى وَقَدْ حَلَّ بَيْتَ الدِّينِ ذِبٌ مُّدَمِرُ وہ دنیا پر جھک گئے اور حرص و ہوا کی طرف مائل ہو گئے اس حال میں کہ دین کے گھر میں ایک تباہ کن بھیڑ یا اتر پڑا ہے۔ارى ظُلُمَاتٍ لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُنُوسَ الْمَوْتِ لَوْلَا أَنَوَّرُ میں تاریکیاں دیکھ رہا ہوں۔کاش میں ان سے پہلے مر چکا ہوتا! اور میں موت کے پیالے چکھتا اگر میں منور نہ ہور ہا ہوتا۔فَسَادٌ كَطُوفَانٍ مُّبِيدٍ وَّ إِنَّنِي أَرَاهُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَوْ هُوَ أَكْثَرُ مہلک طوفان کی طرح ایک فساد برپا ہے اور بے شک میں اسے سمندر کی لہر کی طرح پاتا ہوں یاوہ اس سے بھی بڑا ہے۔أرى كُلَّ مَفْتُون عَلَى الْمَوْتِ مُشْرِفًا وَكُلُّ ضَعِيْفٍ لَّا مَحَالَةَ يَعْثَرُ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر مبتلائے فتنہ موت کے کنارے پہنچ چکا ہے اور ہر ایک کمزور بالضرور ٹھوکر کھاتا ہے۔فَأَنْقَضَ ظَهْرِى ضُعْفُهُمْ وَوَبَالُهُمْ وَمِنْ دُون رَبِّي مَنْ يُدَاوِي وَ يَنْصُرُ پس ان کے ضعف اور وبال نے میری کمر توڑ دی ہے اور میرے رب کے سوا کون علاج کرے گا اور مدد دے گا ؟ فَيَارَبِّ أَصْلِحُ حَالَ أُمَّةٍ سَيّدِى وَعِندَكَ هَيْنٌ عِنْدَنَا مُتَعَسِرُ اے میرے رب ! میرے آقا کی امت کے حال کی اصلاح کر دے اور یہ تیرے لئے آسان ہے (اور ) ہمارے لئے مشکل ہے۔