اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 180
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۸۰ اردو ترجمہ أبواب السماوات۔فكيف وصل جاتے ہیں۔پھر بتاؤ کہ مسیح (علیہ السلام ) کس طرح المسيح إلى الموتی و مقاماتهم باوجود بقید حیات ہونے کے مردوں اور ان کے مع أنه كان في ربقة الحياة؟ مقامات تک پہنچ گئے؟ جان لیجیے کہ ایسا عقیدہ جھوٹا فاعلم أنه زور لا صدق فيه۔وقد ہے۔اس میں کوئی صداقت نہیں۔اس (غلط) نسج عند استهزاء اليهود ولعنهم عقیدے کے تانے بانے یہود کے مسیح (علیہ السلام) بنص التوراة۔لا يُقال أن عيسى لقى الموتى كما لقيهم نبينا ليلة کے ساتھ استہزاء اور نص توراۃ کے مطابق آپ پر لعنت ڈالنے کے موقع پر بنے گئے۔یہ نہیں کہا جا المعراج۔فإن المعراج على المذهب الصحيح كان كشفا سکتا کہ عیسی (علیہ السلام ) مردوں سے اُسی طور ملے لطيفا مع اليقظة الروحانية كما | جیسے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) أن۔لا يخفى على العقل الوهاج شب معراج کو ملے۔کیونکہ صحیح مذہب کے مطابق وما صعد إلى السماء الاروح معراج روحانی بیداری کے ساتھ ایک لطیف کشف سيدنا ونبينا مع جسم نورانی تھا جیسا کہ یہ امر روشن عقل پر مخفی نہیں۔اور ہمارے الذي هو غير الجسم العنصري سيدو مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کا آسمان کی الذي ما خُلق من التربة۔وما كان طرف صعود نورانی جسم کے ساتھ تھا جو اس مٹی سے لجسم أرضى أن يُرفع إلى تخلیق کردہ مادی جسم کے علاوہ تھا۔اور کسی ارضی جسم السماء۔وعد من الله ذى الجبروت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ آسمان کی طرف اٹھایا و العزة۔وإن كنت في ريب فاقرأ اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا جائے یہ صاحب جبروت وعزت اللہ کا وعدہ ہے۔اگر تمہیں شک ہو تو اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا احْيَاء وَاَمْوَاتًا۔فانظرأ تُكَذِّب القرآن لابن مريم واتق الله تقاتا۔أَحْيَاء وَأَمْوَاتًا پڑھو۔پس غور کرو کیا تم ابن مریم وانظر في قوله فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی خاطر قرآن کریم کی تکذیب کرو گے؟ اللہ سے ولا تؤذ ربك كما آذيتني وقد بہت ڈرو! اور اس کے فرمان فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنى ٢ ے کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والا نہیں بنایا ؟ زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی۔(المرسلات:۲۶، ۲۷) ے پس جب تم نے مجھے وفات دی (المائدة: ۱۱۸)