اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 179
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۷۹ اردو ترجمہ الخواص والعوام۔فإن الصليب متفقہ طور پر لعنت کا موجب تھا۔چنانچہ اسی وجہ كان موجبا لللعنة باتفاق جميع سے صحیح (علیہ السلام ) کے جسم کے ساتھ آسمان مسیح فرق اليهود وعلمائهم العظام۔پر چڑھ جانے کے قصے کو ان کی بریت کی تدبیر فلذالك نُحتت قصة صعود کے طور پر تراشا گیا۔مگر اس کو گواہوں کے نہ المسيح مع الجسم حیلہ ہونے کی وجہ سے قبول نہ کیا گیا۔پس وہ لعنت للابراء فما قبلت لعدم کے الزام کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئے اور الشهداء۔فرجعوا مضطرين إلى انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسیح نے امت قبول إلزام اللعنة۔وقالوا حملها کی نجات کی خاطر اس لعنت کو خود اٹھا لیا ہے۔المسيح تنجيةً للأمة۔وما كانت اور يہ سب عُذر محض ٹامک ٹوئیاں تھے۔پھر کچھ هذه المعاذير الا كخبط عشواء۔مدت بعد وہ نفسانی خواہشات کے پیچھے لگ ثم بعد مدة اتبعوا الأهواء گئے اور جانتے بوجھتے ہوئے ابن مریم کو اللہ کا وجعلوا متعمدين ابن مریم لله شریک بنا لیا۔اور مسیح کا صعود اور ان کا لعنتی كشركاء۔وصار صعود المسیح ہونا تین سو سال بعد مسیحیوں کے ہاں عقیدہ کے وحـمـلـه اللعنة عقيدة بعد ثلاث طور پر رائج ہو گیا۔بعد ازاں تین صدیوں کے مائة سنة عند المسيحين۔ثم تبع بعد حج اعوج کے مسلمانوں نے ان عیسائیوں بعض خيالاتهم بعد القرون الثلا کے بعض عقائد و خیالات کا تتبع کیا۔اللہ ثة الفيج الأعوج من تمہیں راہ ہدایت دکھائے تمہیں یہ اچھی طرح المسلمين۔واعلم أرشدك الله سے جان لینا چاہیے کہ ہمارے رسول صلی اللہ أن رسولنا صلعم ما رأی عیسی علیہ وسلم نے عیسی (علیہ السلام ) کو شب معراج ليلة المعراج الا في أرواح مردوں کی ارواح میں ہی دیکھا اور اس میں الأموات۔وإن في ذالك لآية اہل دانش کے لئے ایک عظیم نشان ہے۔موت لذوى الحصاة۔وكل مؤمن يُرفع کے بعد ہر مومن کی روح کا رفع کیا جاتا ہے اور روحه بعد الموت وتُفتح له اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے