اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 176
الهدى و التبصرة لمن يرى اردو ترجمہ على هذه الأمة۔وأثبت بثبوت کرتے ہوئے اس کی عقدہ کشائی کی اور نہایت بين واضح ان عیسى ما صلب واضح ثبوت کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ عیسی صلیب وما رفع إلى السماء و ما كان پر نہیں مارے گئے اور نہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔رفعه أمرًا جديدا مخصوصا به بل آپ کا رفع کوئی نیا امرنہیں جو صرف آپ کی ذات كان رفع الروح فقط كمثل رفع سے مخصوص ہو بلکہ یہ صرف روح کا رفع تھا جیسا کہ اخوانه من الأنبياء۔وأما ذكر رفعه آپ کے دوسرے نبی بھائیوں کا رفع ہوا اور یہ جو بالخصوصية في القرآن۔فكان قرآن کریم میں آپ کے رفع کا خصوصیت سے لذب ما زعم اليهود وأهل ذکر ہے تو وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مزعومہ الصلبان۔فإنهم ظنوا أنه طلب خیالات کو رڈ کرنے کے لئے تھا۔کیونکہ یہ ان کا ولعن بحكم التوراة۔واللعن گمان تھا کہ آپ صلیب دیے گئے اور تورات ينافي الرفع بل هو ضده كما لا کے حکم کے مطابق ملعون ٹھہرے۔اور جیسا کہ يخفى على ذوى الحصاة فرد اہل دانش پر یہ امر مخفی نہیں کہ لعنت رفع کے منافی الله على هاتين الطائفتين بقوله بلکہ اس کی ضد ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - و المقصود بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کہہ کر ان دونوں گروہوں کا منه أنه ليس بملعون بل من الذين رد فرمایا ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ ملعون يُرفعون ويكرمون أمام عينيه نہیں بلکہ آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جن کا رفع کیا وما كان انكار اليهود الا من جاتا ہے اور خدا کی نگاہوں میں معزز ٹھہرتے ہیں۔الرفع الروحاني الذي لا يستحقه یہود کا انکار صرف اس رفع روحانی سے تھا جس کا المصلوب۔وليس عندهم رفع مستحق مصلوب نہیں ہوسکتا۔اور اُن کے نزدیک الجسم مدار النجاة فالبحث عنه جسمانی رفع مدار نجات نہیں۔پس اس بارہ میں لغو لا يلزم منه اللعن والذنوب بحث اخو ہے جس سے لعنت اور گناہ لازم نہیں آتے۔فإن إبراهيم وإسحاق ويعقوب کيونکہ یہ ظاہر ہے کہ ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب ، اور ا النساء : ۱۵۹