اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 188

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۸۸ اردو ترجمہ سوانح المسيح الا عند واقعة کرنے والی حالت صرف واقعہ صلیب کے موقع الصليب۔وليست ربوة في پر ہی متحقق ہوئی تھی۔اور اہل دانش عالم کے الارتفاع في جميع الدنيا من نزدیک تمام دنیا کے دُور و نزدیک میں بلندی البعيد والقريب۔كمثل ارتفاع کے اعتبار سے کوئی بلند مقام کشمیر کے بلند و بالا جبال كشمير وكمثل ما يتعلق پہاڑ اور اس کے سلسلہ کوہ کی بلندیوں جیسا نہیں بشعبها عند العليم الأريب۔ولا ہے اور تمہارے لئے میری اس بات میں غلطی بقية الحاشيه: اَلَم يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوى ، وما اراد منه الا الاراحة بعد الاذى۔وقال بقیہ ترجمہ نے فرمایا: الَم يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوی۔اس سے تکلیف کے بعد آرام پہنچانا ہی مراد ہے۔اور ایک في مقام أخر: إِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ دوسری جگہ فرمایا۔إِذْ اَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يُتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ النَّاسُ فَاوِيكُمُ فانظروا كيف صرّح حقيقة الايواء و بها داواكم۔وقال حكاية عن فاوركُم۔اس لئے غور کرو کہ اس (اللہ ) نے کس طرح ابواء کی حقیقت کی وضاحت فرمائی اور اس ابن نوح: سَاوِى إلى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ۔فما كان قصده جبلا رفيعا الا کے ذریعہ تمہارا مداوا کیا اور نوح کے بیٹے کا حکایہ یہ بیان کہ ساوِى إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ۔اس میں بھی اس نے بلاء (مصیبت ) دیکھنے کے بعد ہی بلند پہاڑ کا رُخ کیا۔بعد رؤية البلاء۔فبينوا لنا اى بلاء نزل على ابن مريم ومعه على امه اشد اب ہمیں بتاؤ کہ ابن مریم اور ان کے ساتھ ان کی والدہ پر صلیب کی مصیبت سے بڑھ کر من بلاء الصليب۔ثم اى مكان أواهما الله اليه من دون ربوة كشمير بعد ذالك کونسی مصیبت نازل ہوئی تھی؟ اور پھر اللہ نے ان دونوں کو اس مشکل گھڑی کے بعد کشمیر کی اس بلند جگہ اليوم العصيب۔أتكفرون بما اظهره الله وان يوم الحساب قريب۔منه کے سوا کس جگہ پناہ دی؟ کیا تم اس چیز کا انکار کرو گے جس کا اظہار اللہ نے فرمایا ؟ اور یقیناً حساب کی گھڑی بہت قریب ہے۔منہ الضحى : - الانفال: ۳۲۷ هود: ۴۴