اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 169

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۶۹ اردو ترجمہ۔وليس صور أعز وأعظم من مبعوث ہوا ہے۔کوئی صور حضرت احدیت کے قلوب المرسلين من الحضرة۔فرستادوں کے قلوب سے برتر اور عظیم تر نہیں ہو بل الصور الحقيقي قلوبهم تنفخ سکتا بلکہ حقیقی صورتو ان کے دل ہوتے ہیں جن فيها ليجمعوا الناس على كلمة میں پھونکا جاتا ہے تا کہ وہ کسی تفرقہ کے بغیر ایک واحدة من غير التفرقة۔و کلمے پر لوگوں کو اکٹھا کریں۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ كذالك جرت سُنّة الله أنه كى سنت جاری ہے کہ وہ امت کی اصلاح کے يبعث أحدًا من الأمة لإصلاح لئے امت میں سے ہی ایک شخص کو مبعوث کر دیتا الأمة۔وليـجـذب الناس به إلى ہے تاکہ وہ اس شخص کے ذریعہ لوگوں کو اپنی پسندیدہ سبله المرضية ولا يترك الحق راہوں کی طرف کھینچ لائے اور حق کو مشتبہ معاملہ کی كالأمر الغمّة۔لكن مع ذالك طرح نہ چھوڑے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک آفة أخرى۔وداهية عظمى۔وهو دوسری آفت اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ ان آفات أن العلاج الذي أراده الله کی اصلاح اور ان مصائب کو دور کرنے کے لئے لإصلاح هذه الآفات ودفع جس علاج کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے وہ اُمر قوم تلك البليات۔هو أمر لا يرضى اور ان کے علماء کو پسند نہیں بلکہ ان کے عوام اور لیڈر به القوم وعلماء هم۔وتنظر إليه اسے کراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بنظر الكراهة عوامهم و ان صليبي فتنوں کے موقعہ پر اپنے مسیح موعود کو كبراء هم۔فإن الله بعث مسیحه مبعوث فرمایا۔جس طرح اس نے موسوی سلسلہ الموعود عند هذه الفتن میں بگاڑ پیدا ہو جانے کے موقعہ پر (حضرت) الصليبية۔كما بعث عیسی ابن عیسی بن مریم کو مبعوث کیا تھا۔اور اس کے لئے مريم عند اختلال السلسلة ضروری تھا کہ وہ ان دونوں سلسلوں میں مطابقت الموسوية۔وكان حقا علیه پیدا کرتا تا کہ پہلے سلسلے کو کوئی فضیلت نہ ہو۔اور (۱۰۸ تطبيق السلسلتين۔لئلا يكون ان دونوں میں ایسی مطابقت ہو جیسی جوتوں کے