اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 166
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۶۶ اردو ترجمہ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنُ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ کو بھول لا نعلم ما هذه الدناءة وهذه جاتے ہیں۔ہم نہیں جان سکے کہ یہ کیسی کمینگی الغفلة۔أليس سيد الرسل من اور غفلت ہے۔کیا سید الرسل معصوموں میں المعصومين؟ بلى۔وإن لعنة الله سے نہیں؟ ہاں ضرور ہیں البتہ جھوٹوں پر اللہ کی على الكاذبين يا معشر الغافلين لعنت ہے۔اے غافلو! تم کب تک عیسی کا إلام تنتظرون عیسی وقد قرب انتظار کرو گے۔حالانکہ قیامت کا دن قریب يوم الدين؟ أتزعمون أنه من آپ کا کیا تم انہیں زندوں میں سمجھتے ہو حالانکہ وہ الأحياء بل هو من الميتين۔وإني وفات يافتہ لوگوں میں داخل ہیں۔اور میں تو عارف بقبره فلا تكونوا من ان کی قبر کو بھی جانتا ہوں۔پس جاہل مت بنو۔الجاهلين۔اجتمعوا إلى أهدكم اگر تم طلب گار ہو تو میرے پاس آؤ۔میں تمہاری إن كنتم طالبين۔وليس ذنب راہنمائی کروں گا۔آسمان کے نیچے حیات عیسی تحت السماء أكبر من القول کے عقیدہ سے بڑھ کر اور کوئی گناہ نہیں۔قریب بحياة عيسى۔وكادت السماوات ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں حقیقت یہی أن يتفطرن به بل هو من الهالكين۔ہے کہ وہ فوت شدہ ہیں۔اور بخدا یہی کچی بات ووالله إنه هو الحق وإني أنبنتُ ہے اور یہ خبر مجھے قرآن اور پھر رب العالمین کی من القرآن ثم بوحی رب العالمین وحی سے دی گئی ہے۔اور جو یہ کہتا ہے کہ وہ زندہ ومن قال إنه حتى فقد افتری علی ہیں تو وہ اللہ پر افترا باندھتا ہے اور کتاب مبین الله وخالف قول الكتاب المبين ( قرآن ) کے فرمان کی مخالفت کرتا ہے۔تم وإنكم تنتظرون نزوله من مدة ایک لمبی مدت سے اُن (عیسی) کے نزول مديدة۔فأين فيكم قريحة سعيدة؟ كا انتظار کر رہے ہو۔اے غلو کرتے ہوئے انظروا أيها المنتظرون الغالون انتظار کرنے والو! سوچو تم میں سعید فطرت کہاں لا یقیناً ( جو ) میرے بندے ( ہیں ) ان پر تجھے کوئی غلبہ نصیب نہ ہوگا۔(الحجر :۴۳)