اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 65

الهدى و التبصرة لمن يرى ۶۵ اردو ترجمہ من بنائهم۔ بل هم قوم مشتغلون عمارت سے بہت رفیع الشان ہے۔ بلکہ وہ بالإصلاح المادى والسیاسی لوگ مادی اور سیاسی اصلاح میں مشغول فما لهم وللإصلاح العلمي ہیں انہیں علمی اور عملی اصلاح سے کیا والعملي۔ فحاصل الکلام ان مناسبت اور کیا تعلق ۔ بادشاہوں اور ۶۵ الملوك والأمراء لا يقدرون امیروں کو قدرت نہیں کہ بری خواہشوں کو على أن يزيلوا الأهواء ۔ وكيف دور کرسکیں ۔اور وہ کیونکر دوسروں کو راہ يهدون غيرهم وهم يمشون دکھا ئیں جبکہ وہ آپ ہی اندھی اونٹنی کی كناقة عشواء ۔ وكيف يُتوقع من طرح چلتے ہیں ۔ ٹیڑھے دل سے کیا توقع ہو قلب زايغ أن يُقوّم نفسًا ذات سکے کہ وہ کسی بیمار جان کو سیدھا کرے گا اور عدواء۔ وأن يُسعد الأشقياء ؟ بدبختوں کو نیک بخت کرے گا اور لڑکھڑانے وأن يأخذ بيد المتخاذلين والے کا ہاتھ پکڑے گا ۔ اور کمزوروں کی ويقود الضعفاء۔ وأن يفتح عيون رہبری کرے گا ۔ اور اندھوں کی آنکھیں العمين وأن يرفع حجب کھولے گا اور محجوبوں کے پردے دور المحجوبين؟ بل ملوك الإسلام کرے گا بلکہ اسلام کے بادشاہ آج کل في هذه الأيام كالسكارى أو متوالوں یا قیدیوں کی طرح ہیں یا گہنائے الأسارى۔ أو القمر المنخسف ہوئے چاند کی طرح ہیں ہالہ میں ۔ سو ان بين هالة النصارى۔ فكيف يصدر کے بازو سے جنگی بہادروں کا کام کے نام کیونکر نکل من عضدهم فعل من بارز سکے ۔ بلکہ وہ تو بیٹھے ہوئے ہیں گھروں میں و باراى؟ بل هم قعدوا في البيوت جیسا کہ عزاری ۔ اس کے علاوہ ان میں یہ كالعذارى ۔ ثم من معائب هذه عیب بھی ہے کہ وہ عربی زبان کی اشاعت الملوك أنهم لا يشيعون نہیں کرتے اور ترکی یا فارسی زبان کی العربية۔ ويشيعون التركية أو اشاعت کرتے ہیں اور واجب تھا کہ الفارسية۔ وكان من الواجب أن اسلامی شہروں میں عربی زبان پھیلائی