اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 54

الهدى و التبصرة لمن يرى ۵۴ اردو ترجمہ في بلغوهم في دقائق الدساسة باریک فریبوں اور بچاؤ کی تدبیروں میں وحيل الحراسة۔فمثلهم كمثل ان تک پہنچ نہ سکے۔سو وہ اس مرغ کی دِيكِ أراد أن يُضاهي النسر فی مانند ہیں جس نے پرواز میں کرگس الطيران فزايل مركزه و ما بلغ بننا چاہا۔پس اپنی جگہ سے تو اکھڑ گیا اور مقام النسر فخر لاغبا فلقفه صقر کرگس کے مقام کو پہنچ نہ سکا آخر تھک في الميدان۔هذا مثل ملوک کر گرا۔پھر ایک چرغ نے میدان میں دد الإسلام بمقابلة أهل الصلبان۔اسے آدبایا۔یہ ہے مثال مسلمان أعرضوا عما عُلّموا من وصایا بادشاہوں کی۔عیسائیوں کے مقابل جو کچھ الاتقاء۔وما كُمّلوا فى المكائد انہیں تقوی اللہ کے متعلق تعلیم ملی تھی اس كالأعداء۔فبقوا لا من هؤلاء سے تو منہ پھیر لیا۔اور اپنے مخالفوں کی ولا من هؤلاء۔وقد كتب الله طرح وہ چالاکیاں اور داؤ بھی پورے نہ لملوك دينه أن لا ينصرهم أبدًا سیکھے اور مسلمان بادشاہوں کی نسبت خدا إلا بعد تقواهم۔وأراد للنصارى تعالى وعدہ کر چکا ہے کہ جب تک متقی نہ بنیں أن يجعلهم فائزين بمكرهم إذ گے ان کی کبھی مدد نہ کرے گا اور اس نے أسخط المؤمنون مولاهم۔ومن ایسا ہی چاہا ہے کہ نصاریٰ کو ان کے مکر میں سوء القدر أنا لا نرى في هذه کامیاب کر دے جبکہ مومنوں نے اسے الأيام ملوك الإسلام قائمين ناراض کیا ہے اور بدبختی سے ہم اس وقت على حدود الله العلام لا فی مسلمان بادشاہوں کو خدا کی حدود پر قائم أنفسهم ولا في الأحكام۔بل ما نہیں دیکھتے بلکہ عیش وعشرت کی حرص کے بقى فيهم إلا نهمة عشرين لونا سوا ان کے پیش نظر اور کچھ بھی نہیں۔اور من القلايا۔وسبعين حسناء من رعایا کے معاملات و مقدمات کے فیصلہ کی المحصنات أو البغايا۔ولا طرف کوئی توجہ نہیں۔کیا تم ان کے تخت کو