اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 53
الهدى و التبصرة لمن يرى ۵۳ اردو ترجمہ الاختلال۔ولكل موطن رجال بعد ملت کی حالت کو درست کر لیں گے۔اور تم كما تعلمون۔وهل يُرجى إحياء جانتے ہو کہ ہر میدان کے لئے خاص خاص مرد الناس من الميت أو الهداية من ہوا کرتے ہیں اور کیا ممکن ہے کہ مُردہ دوسروں کو الضال۔أو المطر من الجهام أو زندہ کر سکے یا گمراہ دوسروں کو ہدایت دے یا الولوج في سم الخياط من خشک بادل سے بارش اور اونٹ کا سوئی کے ناکے الجمال۔فكيف منهم تتوقعون میں داخل ہونا ممکن ہے تو پھر ان سے کیا اُمید (۵۴) وتالله إنا لا نتوقع صلاحهم حتى رکھ سکتے ہو۔ہمیں تو امید نہیں کہ وہ سنور جائیں يوقظهم الاحتضار۔ولكن نُدِب جب تک انہیں موت ہی آکر بیدار نہ إلينا الاذكار وإنا لا نحسبهم إلا کرے۔ہاں وعظ و پند کرنے کا ہمیں حکم ہے اور كطير محلّق لا يُصاد۔أو كعمر ہم تو انہیں ان پرندوں کی طرح سمجھتے ہیں جو ہوا لا يُستعاد۔او كخفافيش خربت میں اڑتے اور پکڑے نہیں جاتے یا عمر کی طرح منها البلاد۔أو كبلدة ما أصابها جو واپس نہیں آتی یا ان چمگادڑوں کی طرح جن العهـاد۔أو كظل غير ظليل لا سے شہر ویران ہو گئے یا اس شہر کی طرح جس پر مینہ تأوى إليه العباد أو كسم قطعت نہ برسا ہو۔یا اس بے برکت سایہ کی طرح جس منه الأكباد۔عظمت صدمة کے نیچے لوگ آرام نہیں پاتے یا اس زہر کی طرح عشرتهم۔وما أرى من يُقلهم من جس سے جگر پارہ پارہ ہو جاتے ہیں۔ان کی ٹھوکر صرعتهم۔تراء والحطب لا کا صدمہ بڑا بھاری ہے اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا كأشجار ذات الثمار۔والحطب جو ان گرتوں کو سنبھالے۔وہ خشک لکڑیاں ہیں لا يليق إلا للنار۔فقدوا قوة پھلدار درخت نہیں۔اور ایندھن تو آگ کیلئے الفراسة۔وأصول السياسة موزوں ہوتا ہے ان میں فراست کی قوت اور وأرادوا أن يتعلموا مكائد اصول ملک داری کا علم نہیں۔انہوں نے چاہا کہ جيرانهم من النصارى فما اپنے عیسائی پڑوسیوں کی مکاریوں کو سیکھیں لیکن کی