اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 33

الهدى و التبصرة لمن يرى ۳۳ اردو ترجمہ سبائك الخلاص لأهل دیتا ہے۔اور اپنے قرضداروں کو مہلت الإخلاص۔ولا يمنّ على الغرماء دینے کا احسان نہیں جتا تا بلکہ ان کو سونا اکٹھا بالإنظار۔بل يُرغبهم في احتجان کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور کسی چور کو اگر وہ النضار۔ولا يأخذ سارقا۔إن كان ڈرنے والا شخص ہی ہو نہیں پکڑتا۔اور ہم تو فارقا وإنّا نحن تلاميذ اول کوزے بنے پھر قرآن کے دریا سے الفرقان۔وأُترِعُنَا من بحره بعد ما لبالب ہوئے۔سواگر منار کا ایڈیٹر اس جہت صرنا كالكيزان۔فإن كان مدير سے مجھ سے بگڑا ہے تو میں اس کی غیرت کی المنار تزرى على لهذا الاعتذار وجہ سے اس کے لئے خدا سے دعا کرتا ہوں فندعو له لغيرته الله الغيور الغفار اور اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی کہتا ۳۶) ولو قمت على مقامه لقلتُ كمثل جو اس نے کہا۔میرے نزدیک خدا کی لعنت كلامه۔ولعنة الله على من أنكر اس پر جو قرآن کے اعجاز کا انکار کرتا اور بإعجاز القرآن وجوهر حُسامه۔اپنے کلام اور نظام کو بجائے خود کوئی مستقل و تفرد درّة كلمه ونظامه۔و شے سمجھتا ہے۔اور خدا کی قسم ہم تو اسی چشمہ والله إنا نشرب من عينه۔ونتزين سے پیتے اور اسی کی زینت سے آراستہ بزينه ولذالك يسعی علی ہوتے ہیں۔اسی سبب سے تو ہمارے کلام كلامنا نور وصفاء۔وفى نطقنا میں نور اور صفا ہوتی اور ہماری گویائی میں يبهر لمعان وضياء۔و بركة روشنی اور شفا اور تازگی اور خوبصورتی چمکتی و شفاء۔وطلاوة وبهاء۔وليس ہے۔اور مجھ پر قرآن کے سوا اور کسی کا احسان الحاشية: اعنى من اقتبس من القرآن ايةً بصحة النية۔خائفًا من الحضرة فلا اثم ترجمہ: یعنی جو شخص خدا سے ڈرتے ہوئے صحت نیت کے ساتھ قرآن سے کسی آیت کو بطو را قتباس عليه عند عالم النيات ذى الجود والمنّة۔منه استعمال کرے تو عالم النیات اور صاحب جو دوسخا کے نزدیک اس پر کوئی گناہ نہیں۔منہ