اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 31

الهدى و التبصرة لمن يرى ۳۱ اردو ترجمہ ما تجلى من قبل ولا يتجلى من جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی ایسی کسی پر نہ پہلے بعد كمثل تجليه لخاتم أنبيائه ہوئی اور نہ کبھی پیچھے ہوگی ۔ اور جو شان قرآن کی وليس شأن وحى الأولياء كمثل وحی کی ہے وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں ۔ اگرچہ ۳۳) شأن وحى الفرقان۔ وإن أوحى قرآن کے کلمات کی مانند کوئی کلمہ انہیں وحی کیا إليهم كلمة كمثل كلمات القرآن۔ فإن دائرة معارف القرآن أكبر الدوائر۔ وإنها أحاطت العلوم كلها وجمعت في نفسها جائے ۔ اس لئے کہ قرآن کے معارف کا دائرہ سب دائروں سے بڑا ہے۔ اور اس میں سارے علوم اور ہر طرح کی عجیب اور پوشیدہ باتیں جمع ہیں اور اس کی دقیق باتیں بڑے اعلیٰ درجہ کے أنواع السرائر۔ وبلغت دقائقها گہرے مقام تک پہنچی ہوئی ہیں ۔ اور وہ بیان اور إلى المقام العميق الغائر۔ وسبق الكل بيانا وبرهانا وزاد عرفانا ۔ و برہان میں سب سے بڑھ کر اور اُس میں سب إنه كلام الله المعجز ما قرع مثله سے زیادہ عرفان ہے اور وہ خدا کا معجز کلام آذانا ۔ ولا يبلغه قول الجن و ہے جس کی مثل کانوں نے نہیں سنا اور اس الإنس شأنا۔ فمثل القرآن وغیر کی شان کو جن وانس کا کلام نہیں پہنچ القرآن كمثل رؤيا رآها ملك سکتا ۔ سو قرآن اور دوسرے کلام کی مثال عادل رفيع الهمة كامل الفهم اس رویا کی ہے جو دیکھی ایک بادشاہ عادل والقياس۔ ورأى هذه الرؤيا بعينها بلند ہمت اور پورے دانا نے ۔ اور وہی رجل آخر قليل الفهم قليل الهمة رویا دیکھی ایک دوسرے عامی کم فہم پست ومن عامة الناس ۔ فلا شك أن رؤيا الملك ورؤيا هذا الرجل ہمت نے ۔ سواس میں شک نہیں کہ بادشاہ کا خواب اور اس عامی کا گو ظاہر میں ایک ہی وإن كانت واحدة غير مميزة في ظاهر الحالات۔ ولكن ليست ہیں ۔ لیکن دانشمند اور تعبیر جاننے والے کے بواحدة عند عارف تعبير الرؤيا نزدیک ایک نہیں ۔ بلکہ عادل بادشاہ کی تعبیر وذى الحصات۔ بل لرؤيا الملك بہت بلند اور عام اور نفع رسان اور سب ۳۴