اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 23

الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۳ اردو ترجمہ والاحتياز لا من بدائع الإعجاز بہانے ہیں عجیب اعجاز کی قسم سے نہیں ۔ اور میری وإن بلاغتى شيء يُجلّی به صدا بلاغت وہ شے ہے کہ ذہنوں کے زنگ اس سے الأذهان۔ ويجلي مطلع الحق دور ہوتے ہیں اور حق کے مطلع کو نور برہان سے بنور البرهان۔ وما أنطقُ إلا روشن کرتی ہے اور میں رحمان کے بلائے بولتا بإنطاق الرحمان ۔ فكيف يقوم ہوں ۔ پس کیونکر میرے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے حذتي من قيد لحظه بالدنیا و جس کی نگہ دنیا تک محدود ہے اور بالمقابل اس مال إليها كل الميلان ورضى کی طرف جھک پڑا ہے اور عورتوں کی طرح بزينتها كالنسوان ۔ أم يزعمون اس کی زینت پر راضی ہو گیا ہے ۔ کیا وہ دعوی أنهم من أهل اللسان۔ سيهزمون کرتے ہیں کہ وہ اہلِ زبان ہیں ۔ عنقریب ويولون الدبر عن الميدان ۔ شکست کھا ئیں گے اور میدان سے دُم دبا ومثلهم كمثل طالع پرید کر بھاگیں گے ۔ ان کی مثال اس لنگڑی ليدرك شأو الضليع فلا يمشى اونٹنی کی سی ہے جو پورے مضبوط گھوڑے کی إلا قدمًا ويسقط على الدسيع۔ أو غايت کو پالینا چاہتی ہے سو ایک ہی قدم چل كرجل راجل وحید یسری فی کر گردن کے بل گر پڑتی ہے یا اس تنہا ليلة شابت ذوائبها وانتابت پیاده کی سی ہے جو چلتا ہے ایسی رات میں شوائبها واشتدّ ظلامها ۔ جس کے گیسو سفید ہو رہے ہیں اور اس کی و كثـر هـوامـهـا ۔ وهو ينقل تائها آفتیں پے در پے آ رہی ہیں اور اس کا ﴿۲۵﴾ من واد إلى واد۔ وليس معه اندھیرا سخت ہو رہا ہے ۔ اور اس کے سراج ولا يسمع صوت هاد۔ کیڑے مکوڑے بہت ہو گئے ہیں ۔ اور وہ وما رافقه من رفيق وما تزوّد ایک وادی سے دوسری میں مارا مارا پھرتا من زاد۔ ولا يجد خفيرا ولا ہے اور نہ اس کے پاس چراغ ہے اور نہ يرى بشيرا۔ ولا مصباحا کسی رہنما کی آواز سنتا ہے اور نہ اس کا