اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 23
الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۳ اردو ترجمہ۔والاحتياز لا من بدائع الإعجاز بہانے ہیں عجیب اعجاز کی قسم سے نہیں۔اور میری وإن بلاغتى شيء يُجلّی به صدا بلاغت وہ شے ہے کہ ذہنوں کے زنگ اس سے الأذهان۔ويجلّـى مطلع الحق دور ہوتے ہیں اور حق کے مطلع کونور برہان سے بنور البرهان۔وما أنطقُ إلا روشن کرتی ہے اور میں رحمان کے بلائے بولتا بإنطاق الرحمان۔فكيف يقوم ہوں۔پس کیونکر میرے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے حذتى من قيد لحظه بالدنیا و جس کی نگہ دنیا تک محدود ہے اور بالمقابل اس مال إليهـا كـل الميلان۔ورضی کی طرف جھک پڑا ہے اور عورتوں کی طرح بزينتها كالنسوان أم يزعمون اس کی زینت پر راضی ہو گیا ہے۔کیا وہ دعویٰ أنهم من أهل اللسان سيهزمون کرتے ہیں کہ وہ اہلِ زبان ہیں۔عنقریب ويولون الدبر عن الميدان۔شکست کھا ئیں گے اور میدان سے دُم دبا ومثلهم كمثل طالع پرید کر بھاگیں گے۔ان کی مثال اس لنگڑی ليدرك شأو الضليع فلا يمشى اونٹنی کی سی ہے جو پورے مضبوط گھوڑے کی إلا قدمًا ويسقط على الدسيع أو غایت کو پا لینا چاہتی ہے سو ایک ہی قدم چل کرجل راجل وحيد يسرى في کر گردن کے بل گر پڑتی ہے یا اس تنہا ليلة شابت ذوائبها۔وانتابت پیاده کی سی ہے جو چلتا ہے ایسی رات میں شوائبها۔واشتدّ ظلامها۔جس کے گیسو سفید ہو رہے ہیں اور اس کی و كثـر هـوامـهـا۔وهو ينقل تائها آفتین پے در پے آرہی ہیں اور اس کا ﴿۲۵﴾ من واد إلى واد۔وليس معه اندھیرا سخت ہو رہا ہے۔اور اس کے سراج ولا يسمع صوت هاد۔کیڑے مکوڑے بہت ہو گئے ہیں۔اور وہ وما رافقه من رفيق وما تزوّد ایک وادی سے دوسری میں مارا مارا پھرتا من زاد ولا يجد خفيرا ولا ہے اور نہ اس کے پاس چراغ ہے اور نہ يرى بشيرا۔ولا مصباحا کسی رہنما کی آواز سنتا ہے اور نہ اس کا