اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 177
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۷۷ اردو ترجمہ وموسى ما رفع أحد منهم إلى موسى" میں سے کسی کا بھی آسمان کی طرف ماڈی السماء بجسمه العنصري كما لا جسم سے رفع نہیں ہوا ۔ اور اس میں بلا شبہ وہ يخفى۔ ولا شك أنهم بعدوا من سب لعنت سے دور رکھے گئے اور انہیں مقرب اللعنة وجعلوا من المقربين بنایا گیا۔ اور انہوں نے اللہ کے فضل سے ونجوا بفضل الله بل كانوا سادة نجات پائی بلکہ نجات پانے والوں کے سردار الناجين۔ فلو كان رفع الجسم ٹھہرے ۔ اگر آسمان کی طرف جسمانی رفع إلى السماء من شرائط النجاة شرائط نجات میں سے ہوتا تو یہودی اپنے لكان عقيدة اليهود فى أنبيائهم انبياء كى نسبت یقیناً یہ عقیدہ رکھتے کہ وہ سب أنهم رفعوا مع الجسم إلى جسم کے ساتھ آسمانوں کی طرف اٹھائے گئے السماوات فالحاصل أن رفع ہیں ۔ حاصل کلام یہ کہ یہودیوں کے نزدیک الجسم ما كان عند اليهود من جسمانی رفع اہل ایمان کی علامات میں سے علامات أهل الإيمان۔ وما كان نہیں اور ان کا انکار محض عیسی کے روحانی رفع إنكارهم الا من رفع روح عيسى سے تھا اور آج تک وہ ایسا ہی کہہ رہے ہیں ۔ وكذلك يقولون إلى هذا پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان الزمان۔ فإن فرضنا أن قوله تعالى بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ حضرت عیسی (علیہ السلام) 1 بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ كان لبيان رفع کے آسمان کی طرف جسمانی رفع کے بیان کے جسم عيسى إلى السماء فأين لئے ہے تو پھر ان کے روحانی رفع کا ذکر کہاں ہے ذكر رفع روحه الذي فيه تطهيره کہ جس میں ان کی لعنت سے تطہیر اور بریت کی من اللعنة وشهادة الإبراء مع أن گواہی ہے۔ حالانکہ اس کے ساتھ ہی اس کا ذکر ذكره كان واجبا لرد ما زعم کرنا یہود ونصاری کے غلطی سے اپنائے ہوئے اليهود والنصارى من الخطاء عقیدہ کے رڈ کے لئے لازمی تھا۔ اگر تم رُشد اور وكفاك هذا إن كنت من أهل ذہانت رکھتے ہو تو تمہارے لئے یہی کافی ہے کیا ا النساء : ۱۵۹ L