اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 164

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۶۴ اردو تر جمه۔المكدر بالصبح والمساء۔ولا ٹسوے بہاتے ہیں اور رونا دھونا نہیں يقلعون عن البكاء۔ولا ينزعون چھوڑتے۔شرم وحیا کی طرف مائل نہیں إلى الاستحياء، ولا ينتهجون ہوتے اور نہ ہدایت کی راہوں پر چلتے ہیں۔سبل الهدى ولا یذکرون اور وہ موت کے قرب کو یاد نہیں رکھتے۔وشك الردى۔وإذا دعوا إلى جب انہیں دعوت پر بلایا جائے تو ان کی القرى۔يريدون أن يأكلوا خواہش یہی ہوتی ہے کہ سارا مال و متاع القُرى۔يقولون بألسنهم لا ہڑپ کر جائیں۔زبان سے تو یہی کہتے ہیں تتخذونی گلا۔ولا تصنعوا کہ میرے لئے زحمت نہ کریں اور میری لأجلى أكـلا والـقـلـب يبغى خاطر کھانا نہ بنا ئیں جبکہ دل یہ چاہتا ہے کہ الحلوى۔واللوزينج وما هو حلوه ، بادام سے تیار شدہ کھانے اور ان سے أحلى وكل ما هو أجرى فى بھی بڑھ کر شیر میں کھانے ہوں اور پھر وہ چیز الحلوق۔وأمضى في العروق جو حلق سے آسانی سے گزرنے والی اور واللحم الطرى۔والكباب رگوں میں سرایت کرنے والی ، تازہ گوشت ، الشامي۔ومع ذالك ماء شامی کباب اور اس کے ساتھ ہی برف ملا يشعشع بالثلج ليقمع هذه پانی پئیں تا کہ اس سے پیاس کو ختم کریں اور الصارة۔ويفثأ تلك اللقمان گرم لقموں کو ٹھنڈا کریں۔اور پھر اس کے الحارة۔ثم مع ذالك ساتھ ہی وہ یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ ( کھانے يستشعرون أن لا يودعوا الا کے بعد انہیں دو دینار دے کر رخصت کیا بدينارين۔أو يُدفع إليهم ما في جائے یا آنکھیں بند کر کے گھر کا سارا سامان البيـت بـغـض العينين۔وإذا قدم اُن کے سپر د کر دیا جائے۔اور اگر انہیں ایسا إليهـم طـعــام فــي مذاقه کلام کھانا پیش کر دیا جائے کہ جس کے مزے میں فيلعنون من دعا إلى القرى کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ دعوت پر بلانے والے