اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 141
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۴۱ اردو ترجمہ متصلفين متباعدين من سبل دُور ہٹے ہوئے پاتے ہیں۔وہ مجلسوں میں الرحمان۔يُظهرون أنفسهم فى اپنے آپ کو ایک لاغر اور نحیف بھیڑ کی وہ المجالس كالكبش المضطمر صورت میں ظاہر کرتے ہیں لیکن دراصل و وليسوا الا كالذئاب أو النمر بھیڑیے یا چیتے ہیں۔وہ اپنے نفسوں کی بڑھ يحمدون أنفسهم متنافسين۔چڑھ کر تعریف کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ويقولون إنا أهل الله ما أطعنا اہل اللہ ہیں اور عنفوانِ شباب سے ہی ہم نے مذ يفعنا الا رب العالمين۔وإن رب العالمین کے سوا کسی کی اطاعت نہیں کی۔نفوسنا مُطهّرة۔وكؤوسنا ہمارے نفوس پاک اور ہمارے جام لبریز مترعة۔ونحن من الفقراء ہیں۔ہم فقیر صفت ہیں اور خدائے عزوجل والمتبتلين إلى الله ذى العزة كى طرف تبتل اختیار کئے ہوئے ہیں۔حالانکہ والعلاء۔ولم يبق فيهم كرامة ٹسوے بہانے کے سوا ان میں کچھ بھی کرامت من غير ذرف الغروب مع نہیں۔نیز رقت قلب سے بھی عاری ہیں۔عدم رقة القلوب۔وما بقى کوئی بدعت ایسی نہیں جسے انہوں نے اختیار بدعة الا ابتدعوها۔ولا مكيدة نہ کیا ہو۔اور کوئی چال بازی ایسی نہیں جسے الا تقمصوها۔ولا يوجد فی انہوں نے اوڑھنا بچھونا نہ بنا لیا ہو۔اور ان مجالسهم الا رقص يُمزّق به کی مجالس میں صرف ایسا رقص ہوتا ہے کہ جس الأردية۔ويدمى الأقفية۔وبما کے ذریعہ لباس تار تار ہوتا ہے اور گردنیں وسعت الدنيا عليهم بذلت لہولہان ہو جاتی ہیں۔چونکہ دنیا اُن پر وسیع ائكهم۔وصار مصلی ہے اس لئے ان کے مزاج بدل گئے ہیں۔اور الحجرات أرائكهم۔فهذا هو حجروں کے مصلے نشست گاہوں میں بدل گئے سبب نقيصة رويتهم ودهائهم ہیں اور یہی ان کی کوتاہ نظری، کم عقلی ، اور وطرق إباحتهم وقلة حياء هم اباحت کے طریقوں اور قلت حیا کا سبب ہے۔