اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 136

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۳۶ اردو ترجمہ على احراض۔يكذبون كثيرا قبلہ بنا رکھا ہے۔وہ مقابلہ کرنے والے سے پیچھے ہٹ وقلّما يصدقون۔وفي كل واد جاتے ہیں۔البتہ لاغروں پر خوب حملہ کرتے ہیں۔وہ يهيمون۔ليس فيهم من غير اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور بہت کم بیچ بولتے ہیں۔وہ خلابة العارضة۔والهذر عند ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ان میں دھوکا دہی المعارضة۔لا يقدرون علی کے عارضہ اور مقابلہ کے وقت کسانی فریب کاریوں عذوبة الإيراد۔من غير كذب اور بیہودہ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں۔جھوٹ ، استہزا اور وهزل وترك الاقتصاد۔ولا ترک میانہ روی کے بغیر وہ شیریں بیانی کی طاقت نہیں يمسون نفائس الكلمات۔الا رکھتے۔بیہودہ اور جاہلانہ باتوں کی آمیزش کے بغیر وہ بمزج الأباطيل والجهلات عمده کلام تک پہنچ بھی نہیں سکتے۔وہ یاوہ گوئی کے يبغون نزهة سوادهم بالهزليات۔ذریعہ عوام کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ہنسانے اور رُلانے والی باتیں کر کے انہیں اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔وہ ويستميلونهم بالمضحكات والمبكيات۔ويريدون اختلاب دلوں کو موہ لینا چاہتے ہیں خواہ ایسا کرنا گناہوں کی القلوب ولو كان داعيا إلى طرف دعوت دے رہا ہو۔وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں محض الذنوب۔ويقولون كل ما يقولون ریا کاری اور مددگاروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی غرض رياء ا و استمالة للأعوان لينهل سے کہتے ہیں۔تا کہ اہلِ دولت و ثروت کی سخاوت ان ندى أهل الشراء والثروة عليهم وليرجعوا بالهيل والهيلمان پر برسے اور وہ ان سے کثیر مال لے کر لوٹیں۔تا کہ وہ وليتسنـوا قيمتهم۔ويستغزروا ان کی قدر و قیمت بڑھا ئیں اور ان کی ہلکی بارش کو ديمتهم۔ولذالك يرقبون موسلا دھار سمجھیں اور اسی لئے وہ ان کی مجالس اور ان ناديهم ونـداهـم۔وإن خيبوا کی عطا پر نظر رکھتے ہیں۔اور اگر وہ اس میں نا کام ہو فيلعنون مغداهم۔وكثير منهم جائیں تو پھر وہ اپنی صبح پر لعنت بھیجتے ہیں۔ان میں سے يعيشون كالدهريين و الطبيعيين۔اکثر دھریوں اور نیچر یوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اور وينظرون الدين كالمستنكفين۔دین کو متکبروں کی طرح دیکھتے ہیں۔بلکہ ملت اسلام