اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 133

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۳۳ اردو ترجمہ بإمداد المؤرخين۔وهو الذى اولين و آخرین کا موازنہ کر ہی نہیں سکتے اور یہی وہ يحمل آثار بناة المجد۔و علم ہے جو اہل مسجد کے آثار وروایات کا حامل ہوتا يشيع أذكار أرباب الجد ہے۔نیز یہ جد وجہد کرنے والوں کے یادگار (۹۳) وهو زينة للدين۔وسنة الله کارناموں کو عام کرتا ہے۔یہ ( تاریخ ) دین کے في كتبه والفرقان المبین لئے زینت اور الہی نوشتوں اور فرقان مبین میں اللہ والدين الذي لم يُحصله کی سنت ہے۔وہ دین جو اس ( تاریخ) کو اپنی تحت أسره۔ولـم يـصـاحبه گرفت میں نہ لے اور اپنے ہاں جگہ نہ دے۔اُس في قصره فليس هو الا دین کی حالت اُس گھر کی طرح ہے جسے ایسی جگہ كبيـت بـنـي بنى فی موضع يُخاف پر بنایا گیا ہو جس کے متعلق یہ اندیشہ ہو کہ وہ عليه من صدمات السيل ( تندوتیز ) سیلاب کے تھیٹروں کی زد میں ہے اور وربما يذهب السيل بمتاعه يه سيلاب بسا اوقات اس کے قیمتی سامان کو بہالے ويغادره كغبار سنابك الخيل جاتا ہے۔اور اُسے گھوڑوں کے ٹموں سے اٹھنے ومن فقد عصا التاريخ يمشى والے غبار کی طرح کر دیتا ہے۔(یاد رکھو) کہ كأقزل۔ولا تتحرك رجله جس شخص نے تاریخ کے عصا کو کھو دیا وہ شخص لنگڑاتا من غير أن تتخاذل فيُنهَب ہوا چلے گا۔اور اس کا پاؤں لڑکھڑائے بغیر حرکت ذالك البيت من صول الجهل نہیں کرے گا۔ایسا گھر جہالت کے حملہ اور سیلاب وسيله۔ومن تبوأه يتلف دُررا سے لوٹا جاتا ہے۔اور اُس مکان کو مسکن بنانے والا جمعها في ذيله۔وربما ينسيه شخص ان قیمتی موتیوں کو ضائع کر دے گا جو اُس نے الشيطان ما هو كعمود الملة۔اپنے دامن میں جمع کئے ہوں۔اور شیطان ويغادر بيته أنقى من الراحة بسا اوقات اسے مذہب کے بنیادی ارکان بھی بھلا فيكون مآل هذا الدين أنه يُرمى دیتا ہے اور اس کے گھر کا بالکل صفایا کر دیتا ہے۔بالكساد۔ويتلطخ بأنواع پس اس دین کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ خسارے کا۔