اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 132

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۳۲ اردو ترجمہ الأيام۔وكيف تقوى المجامع ہیں کہ زمانہ کیسے بدل رہا ہے اور کیسے مجالس وتـغــور المنابع العظام۔وكيف ویران ہو رہی ہیں اور بڑے بڑے چشمے کیسے تخلو المرابط ويهوى الأمراء سُوکھتے ہیں اور اصطبل کس طرح خالی ہو رہے ہیں من امرتهم۔بعد ما أو دعت سر اور کیسے امراء اپنی مسند امارت سے گر رہے ہیں۔الغنى أسرتهم۔وتخبر من أخبار بعد اس کے کہ اُن کے خدو خال میں دولت کا راز المحاربين الغالبين منهم ودیعت ہو چکا تھا۔یہ (اخبار و جرائد ) دو والمنهزمين۔والفائزين منهم متحارب فریقوں میں سے غالب آنے والے والخائبين۔ولولا الأخبار اور شکست خوردہ فریق اور کامیاب ہونے لانقطعت الآثار۔وجُهِل الدُوَلُ والے اور ناکام فریق کے متعلق اطلاع دیتے وما عُلم الأبرار والأخيار ہیں۔اگر اخبارات نہ ہوتے تو ( تاریخ کے ) وتقطعت سلسلة تلاحق الأفكار۔آثار مٹ جاتے اور حکومتیں بے خبر رہتیں اور وتكميل الأنظار۔ولضاعت كثير ابرار و اخیار کی پہچان نہ ہو سکتی۔اور باہم تبادلہ من آراء۔وتجارب أهل عقل خیالات اور تکمیل نظریات کا سلسلہ منقطع ہو جاتا۔ودهاء۔وما بقى سبيل إلى تعرّف اور اہل عقل وفراست کی اکثر آراء اور ان کے أهل السياسات۔ومعرفة أهل تجربات ضائع ہو جاتے۔اور اہل سیاسیات اور العقول والاجتهادات۔ولولا دانشوروں اور اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والوں کی التاريخ لـصـار الناس كالأنعام پہچان کی کوئی سبیل باقی نہ رہتی۔اگر علم تاریخ نہ ولضيعوا سلسلة الأيام والأعوام ہوتا تو لوگ بالکل چوپاؤں کی طرح ہو جاتے اور وقد سلمت ضرورته مدسُلت وہ مہ و سال کے رشتۂ ارتباط کو بالکل کھو بیٹھتے۔السيوف من أجفانها وبُرى جب سے تلواروں نے اپنے میانوں سے نکلنا اور الأقلام لجولانها۔ولا نقدر على قلموں نے اپنی جولانی دکھانی شروع کی ہے۔اس موازنة الأولين والآخرين إلا كى ضرورت مسلّم ہے۔مؤرخوں کی امداد کے بغیر ہم