اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 122

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۲۲ اردو ترجمہ الكفرة في زراية الإسلام سچائی کو چھوڑ دیا ہے۔اسلام پر نکتہ چینی میں وأعــانــوهـم علی نحت انہوں نے کافروں کی مدد کی۔اور اعتراض الاعتراضات ورمی السهام؟ گھڑنے اور تیر برسانے میں اُن کی اعانت ولن يلقى الإسلام فلجا بوجود کی۔اِن (نام نہاد ) مجاہدوں کی موجودگی هذه المجاهدين۔بل وجودهم میں اسلام کبھی کامیابی اور غلبہ حاصل نہ کر عار على الإسلام والمسلمين۔سکے گا۔بلکہ ان کا وجود تو اسلام اور فالخير كله فى موتهم أو أن مسلمانوں کے لئے عار ہے۔اس لئے تمام تر يكونوا من التائبين أيقتلون خیر اسی میں ہے کہ یا تو یہ مر جائیں اور یا پھر الناس لإعراضهم عن حكم توبہ کر لیں۔کیا خدائے رحمان کے حکم سے الرحمان؟ مع أن الإعراض اعراض کی وجہ سے وہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں موجود في أنفسهم لارتكاب جبکہ بدکاری ، بدعہدی اور نافرمانی کا الفحشاء والفسق والعصيان۔مرتکب ہونے کے باعث خود ان میں یہ فكيف يجوز أن يضربوا أعناق اعراض موجود ہے؟ یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے الكفار۔وإنهم يستحقون أن کہ وہ کفار کی گردنیں کاٹیں جبکہ وہ خود اس يضرب أعناقهم بالسيف البتار کے مستحق ہیں کہ ان کی گردنیں شمشیر براں بما فسقوا واختاروا عيشة سے اس لئے کائی جائیں کہ انہوں نے الفجار۔فإن الجهاد لو كان من نافرمانی کی اور فاجروں جیسی زندگی اختیار الضرورات الدينية۔فما معنی کی۔پس اگر اس قسم کا جہا دضروریاتِ دینیہ ترك هذه الفجرة؟ ولِمَ لا میں ہوتا تو پھر ان فاجروں کو چھوڑنا چہ معنی يُقطع رؤوسهم بالمرهفات دارد ؟ اور کیوں نہ ان کے سر تیز تلواروں المذربة؟ ولِمَ لا يُمَزّق لحمهم سے قلم کئے جائیں؟ اور کیوں نہ ان کے بالمُدَى المُشَرَحة؟ فإنهم گوشت کو تیز دھار چھریوں سے ٹکڑے ٹکڑے