اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 121

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۲۱ اردو ترجمہ ناب النوب۔ويُحاربون من وہ پے در پے آنے والی مصیبتوں سے خوفزدہ تصدى للحرب۔ويدفعون ما شخص کی مدد کرتے ہیں۔اور جو برسرِ پیکار ہو أسلمكم للكرب ويهيئون لكم وہ اس سے جنگ کرتے ہیں۔اور تمہیں أسباب الطرب أتضربون مصیبت میں ڈالنے والی ہر چیز سے بچاتے أعناق هذه الحماة؟ ما أفهم سر ہیں۔اور خوشی کے سامان تمہیں مہیا کرتے هذه الغزاة۔أهذا نصرة الدین ہیں۔کیا تم ایسے حمایت کرنے والوں کی أو الأهواء ؟ وما هذا الجهاد گردنیں مارو گے؟ مجھے اس جہاد کے راز کی الذي يأباه الحياء۔ولا يقبله سمجھ نہیں آتی۔کیا یہ نصرت دین ہے یا محض العقل السليم والدهاء ؟ و ما بال نفسانی خواہشات ہیں؟ یہ کیسا جہاد ہے جسے حیا قوم أمهـم هـذه العلماء؟ كلا۔دھکے دیتی ہے؟ اور عقل سلیم اور دانش قبول بل مثلهم كمثل ذئاب أو كنمر نہیں کرتی۔ایسی قوم کا کیا حال ہے جس کی وكلاب۔ووالله إنهم ليسوا إلا امامت کرنے والے یہ علماء ہیں ؟ ہرگز نہیں۔خطباء الدنيا الدنية۔ولو تراء وا بلکہ ان کی مثال بھیڑیوں یا چیتوں اور کتوں بالعمامة أو الدنية وليس هذا جیسی ہے۔بخدا یہ تو صرف حقیر دنیا کے خطیب الجهاد الاشَرَكُ الردا ہیں۔اگر چہ عمامہ یا پگڑی کے ساتھ دکھائی فيضحكهم اليوم ويبكى غدا۔دیں۔یہ جہاد تو ایک موت کا پھندا ہے جو آج أيذبحون المحسنين بالمُدَى؟ انہیں تنہا رہا ہے اور کل رُلائے گا۔کیا وہ فأين هذا الحكم وفى أتى محسنوں کو چھریوں سے ذبح کرتے ہیں؟ ایسا الهدى؟ أيجوز هذا الفعل العقل حکم کہاں ہے اور کس ہدایت نامے میں ہے؟ السليم؟ ويستحسنه الطبع کیا عقل سلیم ایسے فعل کو جائز قرار دیتی ہے؟ المستقیم۔بل لبسوا الصفاقة اور کیا طبع مستقیم اسے مستحسن سمجھتی ہے؟ بلکہ وخلعوا الصداقة ونصروا انہوں نے بے حیائی کا لباس پہن لیا ہے اور