اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 102
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۰۲ اردو ترجمہ عشرتها۔وتجميل قشرتها۔دیا۔یہاں تک کہ وہ رحمانیت کے حقوق سے وأحالت الأهواء صفاتهم نا آشنا ہو گئے۔پھر اُن سے نصرت دین کی الإنسانية۔حتى جهلوا الحقوق توقع کس طرح کی جا سکتی ہے اور تجہیز و تکفین الرحمانية۔فكيف يُتوقع منهم كے بعد مردہ کس طرح زندہ ہوسکتا ہے۔دین کے نصرة الدين ؟ و كيف يحى کی مدد کرنا کوئی آسان کام نہیں۔مرکز ہی الميت بعد التجهيز والتكفين؟ اس تک تیری رسائی ہو سکتی ہے اور یہ فتح عوام و إن نصرة الدين ليس بهين۔اور عامتہ الناس کو ہرگز نہیں دی جائے گی اور وما تصل إليها الا بعد أن تصل دشمنوں کو ان کی لاٹھیوں اور برچھیوں سے قطعاً إلى الحين۔ولن يؤتى هذا شکست نہیں دی جا سکے گی۔پرلے درجے کی الفتح لعرض الناس وعامتهم حماقت ہو گی کہ آدمی اُن کے وجود پر فخر کرے ولن تهزم العدا بعصيهم یا ان کیڑوں مکوڑوں سے خیر کی امید رکھے۔وحربتهم۔فمن الغباوة أن يفرح پس قحط کے اس زمانے میں کسی یوسف کو تلاش رجل بوجودهم۔أو يتمنى خيرا کرو خواه دور کا سفر ہو اور (اس کے ) لئے من دو دهم۔فتحسسوا یوسف سواریاں تیار کرنی پڑیں۔ان علماء کے مجبوں (۸۱) عند الامـحـال ولو بالسفر پر مت جاؤ۔کیونکہ ان میں بخل اور ریا کے سوا البعيد وشد الرحال۔ولا کچھ نہیں اور نہ ان کی دوسری عادتوں ( کی تنظروا إلى حلل هذه العلماء۔طرف دیکھو ) جو صالحین کے شایان شان نہیں فإنه ليس فيها من دون البخل۔میں نے انہیں بلایا جیسا کہ بلانے کا حق تھا۔مگر والــريــاء۔وسيــر اخـر لا تلیق وہ صرف انکار میں ہی آگے بڑھتے گئے۔میں نے بالصلحاء۔وإني دعوتهم حق کتنی ہی کتابیں لکھیں۔متعد در سالے فی البدیہ رقم الدعاء۔فما زادوا الا في الإباء۔کئے اور کئی جریدے شائع کئے اور بہت سے عمدہ وكم من كتب كتبتُ۔ورسائل نکات میں نے پھیلائے۔لیکن میرے موتیوں اور