اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 27

الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۷ اردو ترجمہ العين ويقوزون من ربهم ہیں اور وہ پاتے ہیں اپنے رب سے دو حصے اور بالسهمين۔ويرجعون بالغُنمين لوٹتے ہیں دوہری لوٹ لے کر۔اور وہ وہ لوگ وإنهم قوم نزلوا عن متن ركوبة ہیں جو اتر پڑے ہیں ہوائے نفس کی سواری کی پیٹھ پر الأهواء۔وحلّوا فِناء الفناء سے اور اُترے ہیں فنا کے آنگن میں۔ان کی نیتیں جلت نيتهم۔و قلت غفلتهم۔لا اور مقاصد بڑے ہیں اور غفلت ان میں نہیں۔اللہ کی يرون في سبيل الله أثرا إلا راہ میں کوئی ایسا نشان نہیں دیکھتے جس کی پیروی نہ يقفونه۔ولا جدرًا إلا يعلونه۔ولا کریں اور کوئی ایسی دیوار نہیں دیکھتے جس پر چڑھ نہ واديا إلا يجزعونه ولا هاديا إلا جائیں اور نہ کوئی ایسی وادی جسے طے نہ کریں اور نہ اور نہ يستطلعونه۔عُشاق الرحمان کوئی ایسا ہادی جس سے راہ کی خبر نہ پوچھ لیں۔وہ وفي سبيله كالنشوان من ذا رحمان کے عاشق اور اس کی راہ میں سرمست اور الذي يقرع صفاتهم۔أو يُضاهي متوالے ہوتے ہیں۔وہ ہے کون جو اُن کی تو ہین صفاتهم۔ومن جاء هم كدبیر و تحقیر کرے یا ان جیسی صفات پیدا کر دکھائے جو شخص ۲۹ فقد لفح ولا كلفح هجير إنّهم ان کے مقابل مخالف بن کر آیا وہ روسیاہ ہوا۔وہ۔يسعون إلى الحضرة عند لوگ مشکلات کے وقت خدا کی طرف دوڑتے المشكلات بدمع أحر من دمع ہیں ایسے آنسوؤں کے ساتھ جو گرم دیچی سے بھی المقلات۔وإن مثلهم كمثل زیادہ گرم ہوتے ہیں۔وہ اس درخت کی مانند سرحة كثيفة الأغصان وريقة ہوتے ہیں جس کی شاخیں گھنی ہوں اور اس کی الأفنان۔مثمرة بشمار الجنان و ٹہنیوں پر خوب پیتیاں ہوں اور بہشتی پھل من أتاها تساقط عليه رُطَبًا جنيًّا اُسے لگے ہوں اور جواس کے پاس آوے فطوبى للجوعان۔إنهم قوم زكوا تر بتر میوے اُس پر گرائے سو بھوکے کو خوشخبری دثار هم و شعارهم۔وخرجوا من ہو۔وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اندر باہر ایڈیشن اول میں سہو کتابت ہے۔درست يفوزون ہے۔(ناشر)