اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 140
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۴۰ اردو ترجمہ في ذكر مشائخ هذا عصر حاضر کے مشائخ کے بیان میں الزمان لعلك تقول أن مشايخ شاید آپ یہ کہیں کہ اس زمانے کے هذا الزمان الذين عُدوا من مشائخ جو اولیاء الرحمن شمار کئے جاتے أولياء الرحمان هم قوم ہیں۔وہ اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔مصلحون فليحفد إليهم پس چاہئے کہ مسلمان ان کی طرف دوڑیں۔المسلمون فإنهم فانون في کیونکہ یہ حضرت کبریا کی محبت میں فانی حب حضرة الكبرياء۔ولا ہیں۔اور تکبر اور خود پسندی میں وقت ضائع يُضيعون الوقت في الزهو نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہدایت والخيلاء۔بل يريدون آن کی راہ پر گامزن ہوں اور نفسانی خواہشات ہو ينتهج الناس مهجة الاهتداء کے آنگن سے مقام فنا کی جانب منتقل وينقلوا من فناء الأهواء۔إلى جائیں۔اور انہوں نے ہمجولیوں کے ساتھ مقام الفناء۔وقد آثروا تلاوة کھیلنے کودنے پر تلاوتِ قرآن کو مقدم کیا ہوا القرآن على اللهو بالأقران ہے۔تم انہیں حجروں میں ربّ کائنات کی تراهم جالسين في الحجرات۔طرف انقطاع ( الی اللہ ) کئے ہوئے بیٹھے منقطعين إلى رب الكائنات دیکھو گے۔پس مجھ سے جواب سن۔ہم اس فاسمع مني۔إنّا نؤمن بوجود اُمت میں صلحاء کی ایک جماعت کی موجودگی طائفة من الصلحاء في هذه كو تسلیم کرتے ہیں۔اگر چہ لوگ ان کی تکفیر الأمة۔ولو كان الناس يُكفّرونھم کرتے اور مختلف قسم کے افترا اور تہمتوں ويؤذونهم بأنواع الفرية سے انہیں تکلیف دیتے ہیں۔لیکن ہم اس والتهمة۔ولكنّا نجد أكثر زمانے کے اکثر مشائخ کو ریا کار، لاف مشايخ هذا الزمان۔مُرائين زن اور خدائے رحمان کی راہوں سے