اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 125

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۲۵ اردو ترجمہ السماوات العلى أولئك هم بلند آسمانوں سے نازل ہوتی ہے تو ایسے لوگ ہی الصالحون حقا وأولئك من حقيقي نيكوكار ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ کی مغفرت المغفورين۔حاصل کرنے والے زمرہ میں شامل ہیں۔أيها الناس۔كنتم پھر اے لوگو! تم مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔تنتظرون المسيح فأظهره الله اب اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق اسے ظاہر فرما كيف شاء۔فأسلموا الوجوہ دیا۔اس لئے ( تمہارا فرض ہے کہ) تم اپنے لربكم ولا تتبعوا الأهواء۔إنكم آپ کو اپنے رب کے سپرد کر دو اور خواہشات کی اور لا تحلون الصيد و أنتم حُرُم پیروی نہ کرو۔احرام کی حالت میں تم شکار کرنا جائز نہ فكيف تُحلّون أراء كم وعندكم نہیں سمجھتے تو پھر کس طرح حکم کی موجودگی حكم۔وإن الحكم لرحمة میں تم اپنی آراء کو جائز قرار دے سکتے ہو۔حگم الحاشية - ان الأراء المتفرقة تشابه الطير الطائرة في الهواء۔والحكم متفرق آراء ہوا میں اُڑنے والے پرندوں کی طرح ہوتی ہیں۔حکم ایک ایسے يشابه الحرم الأمن الذي يؤمن من الخطأ۔فكما ان الصيد حرام في الحرم پرامن حرم کے مشابہ ہے جو خطا سے محفوظ رکھتا ہے۔جس طرح اللہ کی مقدس سرزمین کی تعظیم کی اكراما لارض اللـه الـمـقـدسة فكذالك اتباع الأراء المتفرقة و اخذها من وجہ سے حرم میں شکار کرنا حرام ہوتا ہے۔اسی طرح حکم کی موجودگی میں جو معصوم اور اللہ کی او کار القوى الدماغية۔حرام مع وجود الحكم الذي هو معصوم و بمنزلة جناب سے بمنزلہ حرم ہے اپنی متفرق آراء کی اتباع اور دماغی قومی کے آشیانوں سے انہیں اخذ الحرم من حضرة العزة بل يقتضى مقام الادب ان تعرض كل امر عليه۔کرنا حرام ہے۔بلکہ مقام ادب کا تقاضا ہے کہ ہر معاملہ کو اس (حکم ) کے سامنے پیش کیا و لا يوخذ شيء الا من يديه۔منه۔جائے اور ہر چیز صرف اسی کے ہاتھوں سے لی جائے۔منہ