الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 38
اس وقت آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ آپ انبیاء پر کر کہ نیا لے ہیں میں کا خاصہ بھی پہلے معنے کے علاوہ کچھ نہیں۔کیونکہ محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں چیز پر مر کر دی یعنی اب اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی۔قرآن عزرویہ میں فرمایا ہے۔عم الله على لانی کی دو مر تعالے نے ان سیتی رختم نبوت کامل مشتته کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مفتی صاحب کے نزدیک خاتم کے مزعوم منیٰ حقیقی کا مفاد آخری بنی ہے پھر وہی مفاد وہ خاتم کے مخاطر لیک اس کے مجاز ہی معنی سے بھی اخذ کر رہے ہیں۔حالانکہ حقیقت اور حجاز کا اجتماع مطابق بیان مفتی صاحب علمائے لغت اور عقلمندوں کے نزدیک محال ہے پس جب خاتم النبیین کے حقیقی معنے بھی مفتی صا کے نزدیک آخری نبی ہوئے اور خاتم معنی شہر کے مجازی معنی کا مفاد بھی کسی بچی کا آئندہ نہ پیدا ہو سکتا ہوا۔اور مفہوم اس کا بھی آخری نبی نکلا۔تو اس طرح حقیقت اور مجازہ کا اجتماع لازم آیا۔اس سے تو مفتی صاحب کو خود ہی سمجھے جانا چاہیئے تھا کہ ان کے معنی ختم کرنے والا اور آخری بھی بی : نبی تراش مر کا ذکر کیا ہے نہ کہ سن کر نیوالی مر کا۔سو اس کے ذکر کا اس جگہ کیا تعلق مفتی صاحب تو بند کر یوالی شہر مراد لے رہے ہیں بنے