الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 22 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 22

۲۳ کی خاتم بالذات کے فیض سے ہی نبوت کا مقام پائے گا۔اور چونکہ وہ اختر صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہوگا۔اور کوئی نئی شریعت نہیں لائے گا اور نہ آپ کی شریعیت کے کسی حکم کو منوع کرے گا۔اس لئے اس کی نبوت سے غائیت محمدی میں بینی آنحضرت مسلے اللہ علیہ وسلم کی خائیت بالذات اور خاتمیت زمانی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔خاتمیت بالذات مرتی بنت زمانی کے اثبات میں مولانا موصوف تحریر فرماتے ہیں:۔کا اور سب سے اوپر عہدہ گورنری یا وزارت ہے۔اور سوائے اس کے سب عہدے اس کے ماتحت ہوتے ہیں اور دن کے احکام کو وہ توڑ سکتا ہے اس کے احکام کو اور کوئی توڑ نہیں سکتا۔وجہ اس کی یہی ہوتی ہے کہ اس پر ھرا سب عہدہ جات ختم ہو جاتے ہیں۔ایسے ہی خاتم مراتب کے اوپر اور کوئی عمدہ ہوتا ہی نہیں۔جو ہوتا ہے اس کے ماتحت ہوتا ہے اس لیئے اس کے احکام اور وں کے لئے ناسخ ہوں گئے۔اوروں کے احکام اس کے احکام کے ناسخ نہ ہوں گے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ وہ خاتم زمانی بھی ہو کیونکہ اوپر کے حاکم تک نوبت سب حکام ہتوت کے بعد آتی ہے۔اس لئے اس کا حکم آخر میں حکم ہوتا ہے چنانچہ ظاہر ہے۔پارلیمینٹ تک مرافعہ کی نوبت سب کے بعد ہی آتی ہے۔یہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔کسی اور نبی نے