الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 293
۲۹۳ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہمارے قبیلہ کی طرف منہ کر کے نما نہ پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھالے تو وہ مسلمان ہے۔جس کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر ہے۔پس تم لوگ اللہ کے خوب کی خلاف ورزی نہ کرنا۔پس یہ امر سخت قابل افسوس ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کو منظر علماء نے حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کو کا فرادر غیر مسلم قرار دے کہ توڑا ہے۔اور ایک نئی شریعیت بنانے کی کوشش کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :- ثَلاثَ مِنْ أَصْلِ الْأَيْمَانِ الْكَتْ عَمَّن قَالَ لا إله إلا الله لا نكرة بكلب ولا تخرجه مِنَ الاسلام (الحمد اللہ البالغہ جلد م م 1 ) اس حدیث میں ہدایت کی گئی ہے کہ جو شخص کلمہ لا اله إلا الله کہیے اس کو دکھ دینے سے رک جانا چاہیئے۔اس کی کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہیں کرنی چاہیئے۔اور اسے اسلام سے خارج نہیں قرار دینا چاہیئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول اللہ کی دل سے قائل اور ارکان اسلام کی پاسین ہے لیکن معاند علماء نے آپ کو کا فر قرار دینے میں ظلم کی راہ اختیار کی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ صاف لکھتے ہیں : امنْتُ بِاللهِ وَمَلَكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسلام