الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 269
۲۷۰ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضلیت کا دعویٰ کیاست مفتی صاحب نہایت غیر ذمہ دارانہ طور پر سوچ اور فکر کو بالائے طاق رکھ کر بزعم خود اپنے بستان کے شہت میں پیش کرتے ہیں کہ :۔ہمارے نبی اکرم سلے اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی تعداد صرت کی تین ہزا ر کھی ہے (تحفہ گولڑویہ) اور اپنے معجزات کی تعداد برا همین احمدیہ نے دس لاکھ تہائی ہے۔کہ خست الْتَمَرُ السمو السير و إن لى هما القمران المُشْرِقَان اسنجر - اس کے لئے ربیعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چاند کے خسوف کا نشان خاماہر ہوگا۔اور میرے لئے چاند۔اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔" (اعجاز احمدی طب) الجواب اوس بہتان کے جواب میں واضح ہو کہ تحفہ گولڑویہ میں نبی کریم اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی تعداد اس لحاظ سے بیان کی گئی ہے کہ اتنے معجزات احادیث نبویہ سے ثابت ہیں۔ورنہ اخوات مصلے اللہ علیہ وسلم کے نشانات کی تعداد تو آپ کے نزدیک حدو شمار سے باہر ہے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :- احضرت مسلے اللہ علیہ وسلم کئے جوزات تو چاروں طرف سے چمک رہے ہیں وہ کیونکر چھپ سکتے ہیں۔صرف وہ معجزات ہو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزہ ہے۔اور پیشگوئیاں تو دس ہزار سے بھی زیادہ ہوں گی جو اپنے وقتوں پر