الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 180
1^1 الذي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ مَرَ الْحَقَّ وَيَهْدِي الى مراء العزيز المبيد۔اسیاء ، یعنی وہ لوگ بین کو علم دیا گیا ہے اس چیز کو جو تیری طرف تیرے رب کی طرف سے نازلی ہوئی ہے حق جانتے ہیں اور وہ تعلیم غالب محمد دا نے خدا کی راہ کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ خدا کے راہ سے مراد قرآن ہے۔جو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔نہ کہ وہ راہ جس پر خدا چلتا ہے پس اگر مفتی صاحب کی نیست بخیر ہوتی اور وہ اس آیت میں نیک نیتی کے ساتھ غور کرتے تو وہ حقیقت سے سراسر اور معنی نہ لیتے۔اب مفتی صاحب کو یہ احساس ہو جانا چاہیئے۔کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا بیان کردہ معیار که نفس معتر نیکر قرآن کریم میں غور کرنا چاہیتے با لکل درست معیار ہے کیونکہ اس کو میر نظر نہ رکھ کر مفتی صاحب غلط راستہ پر جا پڑے اور سچائی کی راہ ے دور جا پڑے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ بیان فرمایا ہے۔چھٹا معیار ، کرمانی سلاد کے سمجھنے کے لئے سلسلہ مہمانی ہے | سلسلہ کیونکہ خدا وند تعالئے کے دونوں سلسلوں میں نکلی تطابق ہے نا رير كانت الدعاء ما یہ معیار بھی درست اور ضروری ہے اور اس کے ہیچ ہونے کے متعلق قرآن کریم سے روشنی ملتی ہے کیو نکہ خود اللہ تھا لئے نے قرآن مجید میں