الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 145 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 145

۱۴۶ صلے اللہ علیہ وسلم کی خاتم روحانی کے فیض سے ہی امت میں سے مبعوث ہوگا۔اور بنی اللہ اور امام اقامت ہوگا۔چنانچہ ایک گردہ مسلمانوں میں سے اسی بات کا قائل رہا ہے کہ میلے کے نزول سے مراد یہ ہے کہ امام صمدی جیسے علیہ السلام کے بروز ہوں گے جب حدیث لا مهدی الا عیسی ابن۔من گویا یہ امام محمدی کو ملا جو اقتباس الا و بروز کو بعینہ صاحت کالا جاتا ہے۔انتے تھے۔کیونکہ سمجھا پس اُن علماء امت کا خیال جو حیات مسیح کا قائل رہ کر حضرت عیسی علیہ السلام کی افعاللہ آمید ثانی کو مانتے ہیں درست نہیں کیونکہ یہ امر نصوص قرآنیه و هدیه و صحابه کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع کے خلاف ہے۔اثر حضر علی رضی اللہ عنہ حضرت امیرالمؤمنین علی کرم اللہ وجبہ آنحضرت عنها صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل میں لیے فرماتے ہیں ت بين كتفيه خاتم النبوة وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِينِ۔كَسَفَيْهِ خَاتُمُ اررواه الترمذي في الشمائل اس قول کو مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی کتاب کے ہم پر درج کیا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھول کے درمیان خاتم (قمر) بوت ہے اور آپ سب نبیوں میں مہر والے ہی ہیں ن اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان تھا تم وہرہ پایا جانا آپ کے خاتم النیستین بیانی مہر والا نبی ہونے کی علامت بھی اس جگہ