الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 274 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 274

۲۷۵ بجز ایک نقطہ مرکز کے اور جس قدر نقا یا دتہ ہیں اُن میں دوسرے انبیاء و رسل و ارباب صدق و صفا بھی شریک ہیں۔اور نقطہ مرکہ اس کمال کی صورت ہے جو صاحب و تریکو به سیدت جميع دور کر کے کمالات کے اعلیٰ وارفع واخص د ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ہاں اتباع و پیروی سے خلقی طور پر شریک ہو سکتا ہے۔اب جانتا جچا ہیئے کہ در اصل اسی نقطه وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے۔جو اچھا را طور چہ جمیع حقائق عالم کا منبع وحاصل ہے۔اور در حقیقت اسی ایک نقطہ سے خط و تر انبساط و امتداد پذیر ہوا ہے۔اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط وتر میں ایک ہوتیت ساریہ ہے جس کا نبض اقدیس اس سارے خط کو تعین بخش ہو گیا ہے عرض سرچشمہ رموز غیبی اور مفتاح کنوز لارہی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام امرا یہ میداد و معاد کی ملت ٹائی اور ہر ایک زیر و بالا کی پیدائش کی نیت نہیں ہے جس کے تصویر بالکنہ و تصور بکنم سے تمام مقبول و افہام بشریت عاجز ہیں۔اور جس طرح ہر ایک حیات خندہ اتنا لئے کی حیات سے متفائ اور ہر نیک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور سر ہر ایک تحسین اس کی تعین سے خلعت پوش ہے۔ایسا ہی محمد در جمیع مراتب اکوان اور حفاریہ امکان میں باذنہ تعالے