الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 273 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 273

اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سرمشتبہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارا نامہ اس کے کسی فضیلت کا دعوئی کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے۔کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے اور جو اس کے ذریعہ نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فر نعمت ہوں گے۔اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ہی ملی۔اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں۔اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میستر آیا اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم مستور رہ سکتے ہیں جب تک ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔(حقیقۃ الوحی شا (114) ہ تو ہے آخری زمانہ کی تحریر۔اب پڑھنٹے پہلے زمانہ کی ایک تحریر جو آنحضرت یٹے جو یہ صلے اللہ علیہ وسلم کی شان میں وارد آیت کر یہ دلی فَتَدَلَّى فَكَانَ قاب قوسی از آدمی کی تفسیر ہے ، یہ آیت در اصل آیت خاطر النبیین کی قرآنی تفسیر ہے، حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سب سے پہلے قاب قوسین کو ایک دائرہ قرار دے کر اس کا مرکزی نقطہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: