الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 265 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 265

PAY انجام انتم میں کردی ہوتی ہے۔اگر مفتی صاحب نے خود یہ کتاب پڑھی ہوتی اور ادھر اُدھر سے حوالہ جات نہ لئے ہوتے تو شاید وہ ایسا اعتراض نہ اٹھانے کی کیا بنی آیتم میں آپ نے صاف لکھ دیا ہوا ہے:۔یہ ہماری رائے اس میسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بشمار کہا۔اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہ کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔میمہ انجام انتم من و پر تحریر فرماتے ہیں:۔ہمیں پادریوں کے میسون اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیا دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے میسوع کا کچھ تھوڑ اسا حال ان پر ظاہر کریں اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالے نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ کون تھا اور یادری اس بات کے قائل ہیں کہ میون وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعوی کیا۔الخ " پر تحریر فرماتے ہیں:۔جس حالت میں مجھے دھوئی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں، اور میرات