الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 264
۲۲۵ تابعين نه كتُهُمْ وَلا يَنَاقِشُ مَا ذَكَرْنَا الان تباينة باطن محمد صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔شرح فصوص الحکم مطبوعه مسی به ۵۳۰) ترجمه مهدی جو آخری زمانہ میں آئے گا سو دہ احکا بہ شرعیہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع ہو گا۔اور مہارت اور علم اور حقیقت کے امالا سے شام انبیاء اور اولیاء سب کے سب اس کے تابع ہوں گئے اور یہ بات ہمارے پہلے مذکور بیان کے خلافت نہیں کیونکہ اس کا با طن محمد صلے اللہ علیہ وسلم کا باطن ہو شیار معینی دور کا مضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کامل ہو گو ) مفتی صاحب نے اس کے بعد حاشیہ انجام تم رو توبین انبیاء کا الزام کے در سے حضرت مسیح موعود نیا ساس پایان نام لگا یا ہے کہ آپنے حضرت نیسے علیہ السلام کی دادیوں نانیوں، کرن نا کار قرار دیا ہے اور آپ کا نام نادان اسرائیلی رکھا ہے اور آپ کی نبوت بولنے کی عادت قرار دی ہے۔اس کے بارہ میں تو اسنح ہو کہ یہ سب عبارتیں بطور اعزام خصم کے علیا تیروں کے اس ستر میوے کے متعلق عیسائیوں کے مسلمات کی رو سے بیان ہوئی ہیں جس میں میسوع کے متعلق وہ مانتے ہیں کہ وہ خدائی کا دعویدار تھا اور میں نے تمام پہلے نبیوں کو چور اور بیمار کیا۔اس یہ دع کا قرآن مجید ہیں کوئی ذکر نہیں۔قرآن مجید کے حضرت کیلئے ابن مریم ایسے دلادی سے پاک ہیں۔اس امر کی وضاحت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے خود اپنی کتاب