الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 224 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 224

مطلقہ کا امتی ہونے اور انتی رہنے کی صورت میں حاصل ہو سکے۔اس صورت میں ذکورہ استقرائی تعریف ثبوت میں تبدیلی کرنا ضروری ہوگی۔یہی تبدیلی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلامیہ نے شادی کی ہے اور اسنی کا نبی ہونا ممکن قرابہ دیا ہے اور اپنے آپ کو نفس نبوت میں بنی قرار دینے کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی قرار دیا ہے۔اور محنت سے اپنا مقام بالا قرار دیا ہے چنانچہ اشتہارہ ایک غلطی کا ازالہ معصومہ سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیں :- اگر بروہی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نہیں اور رسول نہیں ہوتا تو پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میتراط الذینَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - سویاد رکھنا چاہئیے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں کی اللہ اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نہی رکھا گیا۔اگر خدا راستے سانے سے غیب کی خبریں پانے والانی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نامہ معارت رکھنا چاہیئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتابیں میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہا را مر غیب ہے۔راشتہار ایک غلطی کا ازالہ مت مطبوعه مینو نشر و اشاعت نظارت اصلاح وارشاده دیده) الہ سے پہلے آپ اپنے نہیں ایک پہلو سے بھی اور ایک پہلو سے اتنی تو قرار دیتے تھے لیکن اسے مجدانیت تک محدود جانتے تھے۔اور اپنے اوپر نبی کا