الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 116 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 116

112 ے کیونکہ وہ خاتم النبیین کے معنی میں تخصیص کر رہے ہیں کہ آنحضرت سلے اللہ علیہ وسلم وضعت نبوت پانے میں آخری نبی ہیں۔یا مر علی الاطلاق آخر النبتین کے معنوں کو چھوڑ کر ایک تا ویل اور تخصیص ہی ہے اگر مفتی احساسی اپنے معنوں کو غیر ماحول قرار دیں تو اپنے نفس کو قریب دے رہے ہوں گئے۔کیونکہ ان کے معنے آخر النب تین علی الاطلاق کے خلاف ہیں۔ماسوائے اس کے قارئین کرام پر واضح رہے کہ خاتم النبیین کے معنوں میں امت کا اتفاق صرف اس بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و ہم آخری تشریعی نبی آخری مستقل نبی ہیں۔استخابی کے انقطاع پر علما ءداقت کا کبھی اجماع نہیں ہوا۔خود مفتی محمد شفیع صاحب کے نزدیک میں قسم کی نبوت کا حضرت مرزا صاحب کو دعوئی ہے وہ نبوت کی کوئی قسم ہی نہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :- مرنا صاحب نے جس کا نام غیر تشریعی رکھا ہے وہ نبوت کی کوئی قسم نہیں رختم نبوت کامل مثه حاشید لندا مفتی صاحب کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی تکفیر کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔کیونکہ ان کے نزدیکت انبیاء علیہم السلام سب کے سب تشریعی ہیں۔اور شریعت لازمہ نبوت ہے۔(ملاحظہ ہو ختم نبوت کامل حاشیہ مشد) اب ایک عالم کی حیثیت میں مفتی صاحب کو اپنی تعریفیت نبوت کے پیش نظر یہ لازم ہے کہ وہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیش کر وہ غیر تشریعی نبوت کو جو ان کے نزدیک قسم نبوت نہیں ہے مجازی نیوت قرار دیں کیونکہ ن کی تربیت