الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 114
110 جائز نہیں سمجھتے۔چنانچہ انہوں نے نظام معترالی کو جو سرے سے اجتماع کا منکر ہے کا فر قرار دینے کو قابل اعتراض جانا ہے۔اور دلیل اس کی یہ دیس ہے کہ اجماع کے حجت قطعی ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔ایسی عبارت کی موجودگی میں وہ خاتم النبیین کی نص کو مان کر اس کی تاویل کرنے والے کو اجماع امت کی بناء پر کس طرح کا فر قرار دے سکتے ہیں جبکہ خورا جماع اقت کے قطعی ہونے میں ان کے نزدیک کئی شہیہات ہیں اور نقص کو مان کر اس کی تادیل ان کے نزدیک تکذیب نفس نہیں کہ موجب تکفیر ہو۔اس سیاق سے ظاہر ہے کہ جناب مفتی صاحب نے اپنی محولہ عبارت کے پہلے حصے کو سیاق سے الگ کر کے پیش کر کے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔اور حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پر افتراء سے کام لیا ہے۔حضرت امام غزالی کا مذہب یہ ہے کہ کاموں الہ الا اللہ پڑھنے والا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس کے بعد وہ یہ لکھتے ہیں کہ اگر ہم کلم لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کے لئے تکفیر جائز رکھیں تو پھر تو ایسے شخص کو جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول کے آنے کو جائز رکھے فورا کا ترقرار دینا ہوگا۔اور اس شخص کو کافر قرار دینے کے لئے دلیل صرف یہی پیش ہو سکے گی کہ وہ اجماع کا منکر ہے کیونکہ عقل نہیں اور رسول کے آنے کو محال قرار نہیں دیتی اور تاویل کرنے والے کو اس کی تاویل میں عاجز نہیں کیا جاسکتا۔بندا قام البان کی تاویل کرنے والے کو صرف اجماع کا شکر قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ وہ پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اجماع کا مسکران کے نزدیک کافر نہیں۔پیر مفتی صاحب کا