الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 80
M حقیقۃ الوحی میں موجود ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کا مستقلہ نبوت کی عمر کو شہر توڑ کر آنے کو ختم نبوت کا منافی قرار دینا بھی حقیقت الوحی میں موجود ہے۔اسی طرح اشتہار ایک خلفی کا ازالہ سے خاتم النبین کے توسط سے فیوض اللی پانے کا ذکر بھی اس اشتہار میں موجود ہے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کے جو مستقل بنی تھے ثبوت مستقلہ کی مہر توڑ کر آنے کو بھی خاتم الہی تین کے منافی قرار دیا گیا ہے خاتم النبیین کے یہ دونوں معنی درست ہیں اور ان دونوں کا آپس میں کوئی مخالفت اور تضاد نہیں۔کیونکہ ہے دونوں معنی لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔خاتم النبیین کی خاتم روحانی کے افاضہ سے حضرت میلے علیہ السلام دیگر انبیاء کی طرح مستقل نہیں بنائے گئے تھے۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم بالذات کے معنوں کے ساتھ خاتمیت زمانی بھی ان معنوں میں رکھتے ہیں کہ آپ آخری شاریع اور مستقل بنی ہیں جو شریعیت تامہ کا ملہ سے قبلہ الی یوم القیامہ لائے۔اس لئے آپ کے بعد کوئی مستقل نہیں نہیں آسکتا لہذا حضرت جیسے علیہ السلام تو ستقل بنی تھے وہ بھی آپ کے بعد نہیں آسکتے جیب تک وہ مر نہ ٹوٹ جائے جو ان کی نبوت مستقلہ کی تصدیق اور اس کو مستند بنانے کے لئے لگی تھی۔البتہ جو شخص اپنے تئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں محو کر دے اسے ملی ثبوت مل سکتی ہے (بالفاظ حقیقۃ الوحی) یا خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ بیا حث استحاد اور نفی غیریت اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح اس میں محمدی چہرہ کا انعکاس ہو گیا ہو وہ بغیر