الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 75
لئے امتی ہونا لازمی ہے کہ (حقیقۃ الوحی شل) حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام کا یہ بیان مولانا محمد قاسم صاحب کے اس بیان کے مطابق ہے جس میں خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ن کے معنی خاتمہ بالذات لے کر اس کا اثر یہ بتایا گیا ہے کہ تمام ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء کی تو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا فیض ہیں۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی مسلے اللہ علیہ وسلم بھی کوئی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> پیدا ہو تو پھر بھی نیا قیمت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا یہ ر تحذیر الناس وخت بلحاظ ایڈیشن مختلفه) اسی طرح حقیقۃ الوحی کے لکھنے سے سات سال پہلے آپ نے اشتہار ایک خلفی کا ازالہ میں آیت خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے معنی میں لکھا:۔ليس له ابا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِ الدُّنْيَا وَلكن الحمل هو اب رِجَالِ الْآخِرَةِ وَلا سَبِيلَ إِلى فُيُؤْمِ اللهِ مِنْ غَيْرِ تَوسطه۔یعنی محمد صلے اللہ علیہ وسلم دنیا کے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ آخرت کے مردوں کے باپ ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فیوض حاصل کرنے کے لئے آپ کے توسط کے ب<mark>غیر</mark> کوئی راہ نہیں۔یہ بیان بھی حقیقۃ الوحی کے مندرجہ بالا بیان کے مطابق ہے کیونکہ اس میں ہر فیض خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے واسطہ سے ملنے کا بیان ہے۔بچون کو سلاتی صبا دینے حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام کی کتابوں کا خو مال نہیں کیا اور ادھر ادھر