الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 74 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 74

تو ان کا بنا نا جائز ہوگا۔کیونکہ وہ سب ساتید مجد نبوی کا خلق ہوں گی۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم المساجد کے تقابل میں خاتم الا نبیند قرار دینے کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نئی شریعت مائے والے بنی ہیں ان کے بعد کوئی نئی شریعیت لانے والا نہیں نہیں آسکتا جو آئیگا وہ آپ کا اتنی ہونے کی وجہ سے آپ کا حل ہو گا۔اور آپ کی تشریعیت کے تابع ہوگا۔پس جس طرح مسجد نبوی کے بعد اس کی طل مساجد کا بنانا جائز ہے اسی طرح خاتم الانبیاء کے بعد فعلی نبی کا آنا منقطع نہیں۔آئندہ جو مسجد بنانا جائز ہوگی وہ وہی ہوگی جو مسجد نبوی کے طریق عبادت کے لئے بنائی گئی ہو خواہ اس کا بنانے والا کوئی اتنی نہی ہو یا اس کے بنانے والے عامر متی افراد ہوں۔اب مفتی صاحب غور فرما لیں اُن کی تعلی خاک میں مل گئی ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت مسیح موعود الاسلام عند الله میں لکھا ہے :- دو عبارتوں میں تطبیق اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنا یا بینی آپ کو نافہ کمال کے لئے گروی ہو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوست بخشی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی نمائش ہے۔(حقیقۃ الوحی حاشیہ ملت) نیز تعریہ فرماتے ہیں:۔ایک وہی ہے جس کی حر سے ایسی نبوت بجو مل سکتی ہے جس کے