الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 54
۵۵ یہی معنے ہوں گے کہ آپ بعض انبیا کے مخصوص کے خاتم ، اور آخر ہیں۔اور یہ محلے سوا سکے حضرت آدم کے سب انبیاء پر صادق رختم نبوت کامل معنا انا نوٹ :۔واضح رہے کہ استغراق عرفی میں معروف افراد مراد ہوتے ہیں۔نه که نام افراد بین کرام با مفتی صاحب کی مندرجہ بالا دونون مبارز نو ہماری مقید سے ظاہر ہے کہ مفتی صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ کام کو خاتم النبیین کے مجازی معنوں کے ساتھ جنہیں وہ حقیقی معنے قرار دیتے ہیں ان کا الف لام تعریف استغراق حقیقی کا قرار دینے کے لئے اپنے تیں ایسا مجبور ظاہر کرتے ہیں کہ ان معنے کے ساتھ اگر استغراق حقیقی نہ مانا جائے تو کلام یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا بالعمل صل اور بے معنی رہ جاتا ہے کیونکہ آدم علیہ سلام کے سوا ہر نبی کسی نہ کسی نی کا خاتم اور آخر ہے۔اور اس طرح ہر نبی پر سوائے آدم علیہ السلام کے ان معنی میں خاتم النبیین صادق ہے۔قارئین کرام با خود فرمائیں۔بظاہر تو مفتی صاحب اپنے معنوں کے ساتھ الف لام استغراق حقیقی کا ظاہر کر کے آنحضرت صلی اللہ علہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب نیوں سے امتیاز اور سب نبیوں پر آپ کی مخصوص فضیلت ظاہر کرنا چاہتے ہیں مگر در پردہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی اصالتی آمد ثانی کا جواز نکالنا کی چاہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی انتی بنی کا پیدا ہونا