الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 52 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 52

At زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔مرقاۃ جلدی اے اور یہ بھی حدیث میں وارد ہے کہ لَو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيْنِ فَمَا وَسِعَهُما الا البانی که اگر مو نیستے اور میٹی دونوں زندہ ہوتے تو انہیں میری پیردی کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تا رفتح البیان حاشیه جلد ۲ ص ۲۲ ) ( یہ حدیثیں میں بتاتی ہیں کہ اتنی نبی کے آپ کی پیروی میں آنے سے آپ کی خان میں کمی نہیں آتی جبکہ اس سے آپ کی شان بڑھتی ہے اور آپ تمام انبیاء سے اپنے فیوض کے لحاظ سے انتہازی شان رکھنے والے وجود قرار پاتے ہیں۔ری بیان مفتی محمد شفیع صاحب الف لام تعریف میں لفظ پر داخل ہو اس کی چند صورت میں تعریف کی حقیقت ہیں۔یا تو اس کے افراد میں سے کچھ مراد نہیں بلکہ نفس ما بتربیت مراد ہے تو اس الف لام کو جنسی کہتے ہیں۔اور اگر افراد مراد ہیں تو یا تمام افراد مراد ہوں گے یا لبعض اگر تمام ہیں تو استغراقی ہے۔اور اگر معنی ہیں تو پھر معین ہوں گے یا غیر معین۔اگر معتین ہیں تو صد خارجی ورنہ ذہنی رختم نبوت کامل منش حاشیه اب یہ امر قابل غور ہے کہ خاتم النبیین میں الف لام تعریف کیا ہے؟ سود اصح ہو کہ خاتم النبیین کے اصل معنے جو مولانامحمد قاسم صاحبہ نے بیان فرمائے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے لئے خاتم بالذات ہیں اور تمام انبیاء کی نہرو میں آپ کا فیض ہیں۔ان معنوں میں الف لامر استغراق حقیقی کا پایا جارہتا ہے۔کیونکہ کوئی بھی آپ سے فیض پانے سے باہر نہیں سیپ