الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 51 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 51

۵۲ ترکی کر دینا چاہئیے۔کیونکہ اس سے ختم نبوت پر زد پڑتی ہے۔اس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علی الاطلاق آخر المبین نہیں رہتے ہو مفتی منا کے نزدیک خاتم النبیین کے حقیقی معنے ہیں۔لیکن نزول بیٹے سے مراد امام مہدی کا پہلے علیہ السلام کا بروز ہونا ایک ایسا امر ہے جس سے ختم نبوت پر کوئی دو نہیں پڑتی کیونکہ امام مہدی آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کا کامل فعل اور عکس ہے لہذا اُس کے اُمتنی بنی ہونے میں بوجہ طلبیت کوئی روک نہیں۔کیونکہ ظل اپنے اصل کا غیر نہیں ہوتا۔اور اتنی اپنے متبوع ان کا قتل ہی ہوتا ہے۔کیو نکو اتی کا مفہوم ہی یہ ہے کہ ہر روحانی کمال اس کا اپنے متبوع نبی سے مستقام ہوتا ہے۔پر جب انبیاء سابقین کے نہ اُس الاولیاء یا خاتم الاولیاء ہونے کی وجہ سے ان کی خلقت میں اولیاء اللہ پیدا ہوتے رہے تو اختی نبی کے پیدا ہو نے سے تو خاتم البین صلے اللہ علیہ وسلم کا تمام انبیاء پر شاندار امتیاز قائم ہوتا ہے کیونکہ دوسرے انبیاء کو یہ قوت قدسیہ حاصل نہیں تھی۔اُن کے ذریعہ تو ترقی کا آخری مقام صرف ولایت ہی تھا۔مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کے امتی کے لئے ترقی کا مقام درایت کے علاوہ نبوت بھی ہے۔اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امتی نبی کے لئے خاتم النبین ہونے کی صورت میں آخری مستند رہتے ہیں۔اور روحانی لحاظ سے صرف بادشاہ ہی نہیں عملی شہنشاہ بھی قرار پاتے ہیں۔اور آپ کا یہ دعونی سچا ٹھہرتا ہے که تو كَانَ مُوسى حَيَّا لما رسمه الا اتباعی - کہ اگر مول