الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 50
حضرت بندش والی مر حضرت عیسے علیہ السلام) پھر یہ بھی یاد رہے کہ منزت لیے علیہ السلام مستقل نبی تھے اور کی اصالتاً آمدمیں مانع ہے۔مفتی صاحب کے نزدیک تشریعی بنی تھے اور مفتی صاحب نے خاتم النبیین کے مروالے منے تسلیم کر کے اس کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ نشے اس طرح بند ہو کہ کوئی پیز اس میں داخل نہ ہو سکے۔پس جب حضرت عیسی علیہ السلام پر دوسرے انبیاء سابقین کے ساتھ نندش والی فرنگ گئی تو پھر حضرت عیلئے علیہ السلام وہ گھر توڑے بغیر باہر نہیں آسکتے۔اور قہر ٹوٹنے سے خاتم النبین کا ابطال لازم آتا ہے جو کفر ہے۔لہندا وہ بندش والی مہر لگ جانے کی وجہ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتے۔جناب مفتی صاحب ! جب مسنئے مہر سے اس طرح بند ہو کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے تو ٹھر ٹوٹے بغیر اس میں سے کوئی چیز شکل بھی نہیں سکتی۔پس جیسا انبیاء سابقین پر بندش والی مہر لگ گئی تو اس شہر کو توڑے بغیر حضرت علی علیہ السلام با ہر نہیں آسکتے۔اور ٹھہر کے ٹوٹنے سے ختم نبوت کا ابطال لازم آتا ہے جو کفر ہے لہذا حضرت سہیلئے علیہ السلام بندش والی مہر لگ جانے کی وجہ سے بھی آنحضرت سلے اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتے جیسا کہ آیت استخطان بھی اُن کے آنے میں مانع ہے۔اگر مفتی صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علی الاطلاق خاتم النبین مانتے ہیں تو پھر انہیں حضرت پہلے علیہ اسلام کی اصالتا وہ بارہ آمد کا خیال